ہم اپنے دلوں میں ایسی چیزیں محسوس کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو زبان پر لانا بہت سنگین سمجھتا ہے۔ آپ ﷺ نے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65011Sahih Muslim (HadeethEnc 65011)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے دلوں میں جو ناگوار باتیں پاتے تھے، جن کی قباحت اور شناعت کے سبب انہیں زبان پرلانا بہت سنگین سمجھتے تھے، ان کے بارے میں آپ سے دریافت کیا۔ چنانچہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا : یہ احساس جو تم اپنے دلوں میں پاتے ہو، وہی صریح ایمان و یقین ہے، جو تمہیں شیطانی وسوسے سے اپنی حفاظت کرنے اور اسے زبان پر نہ لانے اور اسے سنگین سمجھنے پر آمادہ کرتا ہے اور اسی کی وجہ سے شیطان تمہارے دل پر حاوی نہیں ہو پاتا ہے، برخلاف اس شخص کے جس کے دل پر شیطان حاوی ہوجاتا ہے اور وہ اپنے دل کے اندر شیطان سے لڑنے کے طاقت نہيں پاتا۔
حدیث کے فوائد
- اہل ایمان کے سامنے شیطان کی کمزوری کا بیان کہ وہ یہاں وسوسہ سے آگے بڑھ نہیں پاپا۔
- دل میں جو وسوسے آتے ہیں، ان کو سچ جان کر قبول نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ وہ شیطان کی جانب سے ہوتے ہیں۔
- شیطانی وسوسہ مؤمن کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، لیکن پھر بھی مؤمن کو چاہیے کہ شیطانی وسوسے سے اللہ کی پناہ طلب کرتا رہے اور وسوسے کی رو میں نہ بہے۔
- مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اسے دینی امور میں جو مشکلات در پیش ہوں، ان کے بارے میں سکوت اختیار کرے، بلکہ اسے چاہیے کہ ان کے بارے میں اہل علم سے پوچھ لیا کرے۔
Explanation
A group of the Prophet's Companions came and asked him about thoughts that came to their minds, and they found it too grave to utter them due to their ugliness and repulsiveness. Thereupon, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: This which you experienced is the clear faith and certitude that prompts you to stave off what Satan throws into your hearts and to refrain from uttering it because you consider it to be too serious. As such, Satan could not dominate your hearts, unlike others whose hearts have been overcome by Satan, and he faces no pushback and resistance from them.