شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: یہ کس نے پیدا کیا؟ وہ کس نے پیدا کیا؟ حتی کہ سوال کرنے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65013Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 65013)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں ان سوالات کا کارگر علاج بیان فرمایا ہے جن کے ذریعہ شیطان مؤمن کو وسوسہ میں مبتلا کرتا ہے۔ شیطان وسوسہ ڈالتا ہے کہ یہ کس نے پیدا کیا؟ وہ کس نے پیدا کیا؟ آسمان کس نے بنایا؟ زمین کس نے تخلیق کی؟ ایسے میں مؤمن اپنے دین، فطرت اور عقل کی روشنی میں ان وسوسوں کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ان سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ لیکن شیطان انہی وسوسوں پر بس نہیں کرتا، بلکہ ایک کے بعد دوسرا سوال لاتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس سوال تک پہنچ جاتا ہے کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ ایسی صورت میں مؤمن کو چاہیے کہ ان وسوسوں کا مقابلہ تین چیزوں کے ذریعے کرے :
اللہ پر ایمان کے ذریعے،
شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرکے
اور وسوسوں کے پیچھے بھاگنے سے اپنے آپ کو روک کر۔
حدیث کے فوائد
- شیطانی وسوسوں سے اعراض کرنا چاہیے اور ان میں غور وفکر نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اللہ تعالی کی طرف رجوع کرکے ان وسوسوں کو دور کرنا چاہیے۔
- شریعت کے خلاف جو بھی وسوسے انسان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں، وہ شیطانی کی طرف سے ہوتے ہیں۔
- اللہ کی ذات میں غور وفکر کرنے کی ممانعت آئی ہے اور اللہ کی مخلوقات اور اس کی نشانیوں میں غور وفکر کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
Explanation
The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) mentions the effective remedy for the questions whispered by Satan to the believer. Satan says: Who created such and such, and who created such and such? Who created the heavens? Who created the earth? Based on his religion, natural disposition, and reason, the believer replies: Allah. But Satan does not stop at this limit of whisperings; rather, he proceeds until he asks: Who created your Lord? Thereupon, the believer should repel these whisperings with three things:
Belief in Allah.
Seeking refuge with Allah from Satan.
Stopping to continue with such whisperings.