صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: یہ کس نے پیدا کیا؟ وہ کس نے پیدا کیا؟ حتی کہ سوال کرنے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
65013Sahih صحیح
عَن أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ كَذَا؟ مَنْ خَلَقَ كَذَا؟ حَتَّى يَقُولَ: مَنْ خَلَقَ رَبَّكَ؟ فَإِذَا بَلَغَهُ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللهِ وَلْيَنْتَهِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: یہ کس نے پیدا کیا؟ وہ کس نے پیدا کیا؟ حتی کہ سوال کرنے لگتا ہے کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ لہٰذا جب نوبت یہاں تک آپہنچے تو اسے اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرنا چاہیے اور اس شیطانی خیال کو ترک کر دینا چاہیے"۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Satan comes to one of you and says, 'Who created such and such, and who created such and such', until he says: 'Who created your Lord?' If a person experiences this, he should seek refuge with Allah and desist from that."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #65013

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں ان سوالات کا کارگر علاج بیان فرمایا ہے جن کے ذریعہ شیطان مؤمن کو وسوسہ میں مبتلا کرتا ہے۔ شیطان وسوسہ ڈالتا ہے کہ یہ کس نے پیدا کیا؟ وہ کس نے پیدا کیا؟ آسمان کس نے بنایا؟ زمین کس نے تخلیق کی؟ ایسے میں مؤمن اپنے دین، فطرت اور عقل کی روشنی میں ان وسوسوں کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ان سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ لیکن شیطان انہی وسوسوں پر بس نہیں کرتا، بلکہ ایک کے بعد دوسرا سوال لاتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس سوال تک پہنچ جاتا ہے کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ ایسی صورت میں مؤمن کو چاہیے کہ ان وسوسوں کا مقابلہ تین چیزوں کے ذریعے کرے :

اللہ پر ایمان کے ذریعے،

شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرکے

اور وسوسوں کے پیچھے بھاگنے سے اپنے آپ کو روک کر۔

حدیث کے فوائد

  • شیطانی وسوسوں سے اعراض کرنا چاہیے اور ان میں غور وفکر نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اللہ تعالی کی طرف رجوع کرکے ان وسوسوں کو دور کرنا چاہیے۔
  • شریعت کے خلاف جو بھی وسوسے انسان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں، وہ شیطانی کی طرف سے ہوتے ہیں۔
  • اللہ کی ذات میں غور وفکر کرنے کی ممانعت آئی ہے اور اللہ کی مخلوقات اور اس کی نشانیوں میں غور وفکر کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

Explanation

The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) mentions the effective remedy for the questions whispered by Satan to the believer. Satan says: Who created such and such, and who created such and such? Who created the heavens? Who created the earth? Based on his religion, natural disposition, and reason, the believer replies: Allah. But Satan does not stop at this limit of whisperings; rather, he proceeds until he asks: Who created your Lord? Thereupon, the believer should repel these whisperings with three things:

Belief in Allah.

Seeking refuge with Allah from Satan.

Stopping to continue with such whisperings.

Topics موضوعات