عمل کی چھ قسمیں ہیں اور لوگوں کی چار۔ دو عمل واجب کردینے والے ہیں، ایک عمل کا بدلہ اسی کے مثل ملتا ہے، ایک…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- مسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه أحمد
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65014Musnad Ahmad (HadeethEnc 65014)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی ہے کہ اعمال کی چھ قسمیں ہیں اور لوگوں کی چار۔ چھ قسم کے اعمال یہ ہیں:
پہلی قسم: جو شخص اس حال میں وفات پائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔
دوسری قسم: جو شخص اس حال میں وفات پائے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو تو اس پر جہنم واجب ہوجاتی ہے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔
یہ دونوں عمل واجب کردینے والے ہیں۔
تیسری قسم: نیت پر مبنی نیکی۔ جو شخص کوئی نیکی کرنے کا ارادہ کرے اور اپنی نیت میں سچا ہو، یہاں تک کہ اپنے دل میں اس نیت کو محسوس کرنے لگے اور اللہ تعالی اس کی اس نیت کو دیکھ لے۔ پھر کسی پیش آمدہ سبب کی بنا پر وہ اس نیکی کو انجام دینے سے قاصر رہے، تو اس کے حق میں پورے طور پر وہ نیکی لکھ دی جاتی ہے-
چوتھی قسم: انجام کردہ گناہ۔ جو شخص کوئی برائی کرے تو اس کے حق میں ایک برائی لکھ دی جاتی ہے۔
ان دونوں عمل کا بدلہ ان کے برابر ملتا ہے۔ بغیر کسی اضافہ کے۔
پانچویں قسم: ایسی نیکی جس کا بدلہ دس گنا ملتا ہے۔ یہ اس شخص کے حق میں ہوتا ہے جو کسی نیکی کا ارادہ کرے اور اسے انجام بھی دے دے۔ اس کے حق میں دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔
چھٹی قسم: ایسی نیکی جس کا بدلہ سات سو گنا ملتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ کی راہ میں کوئی مال خرچ کرے، تو اس کے حق میں اس نیکی کے بدلے سات سو گنا اجر وثواب لکھا جاتا ہے۔ یہ بندوں پر اللہ تبارک وتعالی کا خاص فضل واحسان ہے۔
جہاں تک لوگوں کی چار قسموں کی بات ہے، تو وہ یہ ہیں:
پہلی قسم: وہ شخص جسے دنیا میں کشادہ رزق ملتا ہے۔ چنانچہ وہ دنیا کے اندر ناز ونعم کی زندگی گزارتا ہے اور اپنی ساری خواہشات پوری کرتا ہے، لیکن آخرت میں اسے تنگی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ اس سے مال دار کافر مراد ہے۔
دوسری قسم: وہ شخص جسے دنیا میں رزق کی تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن آخرت میں اسے فراخی ہی فراخی ملے گی اور اس کا ٹھکانہ جنت ہوگا۔ اس سے مراد فقیر مؤمن ہے۔
تیسری قسم: وہ شخص جسے دنیا وآخرت ہر جگہ تنگی ہی تنگی نصیب ہوتی ہے۔ اس سے مراد فقیر کافر ہے۔
چوتھی قسم: وہ شخص جسے دنیا وآخرت ہر جگہ فراخی ہی فراخی نصیب ہوتی ہے۔ اس سے مراد مال دار مؤمن ہے۔
حدیث کے فوائد
- بندوں پر اللہ تعالی کا بہت بڑا فضل واحسان ہے کہ وہ نیکیوں کا اجر وثواب بڑھا چڑھا کر دیتا ہے۔
- اللہ تعالی کا یہ عدل اور اس کا کرم ہے کہ وہ گناہ کرنے پر ہمارے ساتھ عدل کا معاملہ کرتا ہے اور ہر برائی پر صرف ایک گناہ درج کرتا ہے۔
- اللہ کے ساتھ شرک کرنے کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے کہ اس کی وجہ سے انسان جنت سے محروم ہو جاتا ہے۔
- اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
- اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا ثواب سات سو گنا سے شروع ہوتا ہے، کیوں کہ اس سے اللہ کے کلمہ (توحید) کو بلند کرنے میں مدد ملتی ہے۔
- لوگوں کی مختلف قسموں کا بیان اور ان کے اندر جو عملی اختلاف پایا جاتا ہے، اس کی وضاحت۔
- دنیا میں مؤمن اور غیر مؤمن ہر کسی کو فراخی ملتی ہے، لیکن آخرت میں صرف مؤمن کو ہی فراخی وکشادگی ملے گی۔
Explanation
The Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him) reports that there are six types of deeds and four types of people. The six types of deeds are:
First: Whoever dies while not associating anything with Allah, Paradise is guaranteed for him.
Second: Whoever dies while associating anything with Allah Hellfire is guaranteed for him, forever.
These are the two imperatives.
Third: The intended good deed-If a person sincerely intends to do a good deed until he feels it in his heart and it becomes known to Allah, and then something occurs and he cannot do this good deed, it will be recorded for him as a full good deed.
Fourth: The committed sin-Whoever commits a sin, it is recorded against him as one sin.
These two are the one and its equal reward, without multiplication.
Fifth: A good deed multiplied ten times in reward-Whoever intends to do a good deed and performs it, it will be recorded for him as ten honorable deeds.
Sixth: A good deed multiplied seven hundred times-This is the good deed of spending in the way of Allah, which is recorded for its performer as seven hundred virtuous deeds. This is due to Allah's grace and bounty towards His servants.
As for the four types of people, they are:
First: One who has abundant sustenance in this world and finds bliss and whatever he wants in it, yet he will be in straits in the Hereafter and his destination will be Hellfire. That is the wealthy disbeliever.
Second: One who has little sustenance in this world, yet he will be opulent in the Hereafter and his destination will be Paradise. That is the poor believer.
Third: One who is in straits in this world and in the Hereafter. That is the poor disbeliever.
Fourth: One who enjoys opulence in this world and in the Hereafter. That is the wealthy believer.