Musnad Ahmad مسند احمد

عمل کی چھ قسمیں ہیں اور لوگوں کی چار۔ دو عمل واجب کردینے والے ہیں، ایک عمل کا بدلہ اسی کے مثل ملتا ہے، ایک…

عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَعْمَالُ سِتَّةٌ، وَالنَّاسُ أَرْبَعَةٌ، فَمُوجِبَتَانِ، وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَحَسَنَةٌ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَحَسَنَةٌ بِسَبْعِ مِائَةٍ، فَأَمَّا الْمُوجِبَتَانِ: فَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ، وَأَمَّا مِثْلٌ بِمِثْلٍ: فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ حَتَّى يَشْعُرَهَا قَلْبُهُ، وَيَعْلَمَهَا اللهُ مِنْهُ كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً، كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةً، وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَبِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللهِ فَحَسَنَةٌ بِسَبْعِ مِائَةٍ، وَأَمَّا النَّاسُ، فَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ».
خُرَیم بن فاتِک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل کی چھ قسمیں ہیں اور لوگوں کی چار۔ دو عمل واجب کردینے والے ہیں، ایک عمل کا بدلہ اسی کے مثل ملتا ہے، ایک عمل کا بدلہ دس گنا ملتا ہے اور ایک عمل کا بدلہ سات سو گنا ملتا ہے۔ جہاں تک واجب کردینے والے اعمال کی بات ہے تو وہ یہ ہیں : جو شخص اس حال میں وفات پائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا اور جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ جس عمل کا بدلہ اسی کے مثل ملتا ہے وہ یہ ہے : جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے یہاں تک کہ اس کا دل اس نیکی کو محسوس کرنے لگے اور اللہ اس کے ارادہ کو دیکھ لے، تو اس کے حق میں ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور جو شخص کوئی برائی کرے تو اس کے حق میں وہ برائی لکھ دی جاتی ہے۔ اور جو شخص نیکی کرے تو اسے اس کا دس گنا اجر ملتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرے، اسے سات سو گنا اجر وثواب ملتا ہے۔ جہاں تک لوگوں کی بات ہے تو کسی کو دنیا میں کشادگی ملی ہوئی ہے اور آخرت میں تنگی ملے گی، کسی کو دنیا میں تنگی ملی ہوئی ہے اور آخرت میں فراخی ملے گی، کسی کو دنیا میں تنگی ملی ہوئی ہے اور آخرت میں بھی تنگی ملے گی، جب کہ کسی کو دنیا میں فراخی ملی ہوئی ہے اور آخرت میں بھی فراخی ملے گی"۔
Khuraym ibn Fātik (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) said: "Actions are of six types and people are of four: two imperatives, one and its equal reward, one good deed with ten times as much reward, and one good deed with a seven-hundred-fold reward. As for the two imperatives, whoever dies while not associating anything with Allah will enter Paradise, and whoever dies while associating anything with Allah will enter Hellfire. As for one and its equal, if a person intends to do a good deed until it is felt in his heart and known to Allah, it will be recorded for him as a good deed; and if a person does a bad deed, it is recorded against him as a bad deed; whoever performs a good deed will have ten times as much in reward; and whoever spends in the way of Allah will have a good deed multiplied seven hundred times. As for people, some are in opulence in worldly life while in straits in the Hereafter; some are in straits in worldly life while in opulence in the Hereafter; some are in straits in worldly life and the Hereafter; and some are in opulence in worldly life and the Hereafter."

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
مسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: رواه أحمد
2Grade درجہ
Hasan حسن
Good: acceptable, slightly below Sahih
قابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہ
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #65014

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی ہے کہ اعمال کی چھ قسمیں ہیں اور لوگوں کی چار۔ چھ قسم کے اعمال یہ ہیں:

پہلی قسم: جو شخص اس حال میں وفات پائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔

دوسری قسم: جو شخص اس حال میں وفات پائے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو تو اس پر جہنم واجب ہوجاتی ہے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔

یہ دونوں عمل واجب کردینے والے ہیں۔

تیسری قسم: نیت پر مبنی نیکی۔ جو شخص کوئی نیکی کرنے کا ارادہ کرے اور اپنی نیت میں سچا ہو، یہاں تک کہ اپنے دل میں اس نیت کو محسوس کرنے لگے اور اللہ تعالی اس کی اس نیت کو دیکھ لے۔ پھر کسی پیش آمدہ سبب کی بنا پر وہ اس نیکی کو انجام دینے سے قاصر رہے، تو اس کے حق میں پورے طور پر وہ نیکی لکھ دی جاتی ہے-

چوتھی قسم: انجام کردہ گناہ۔ جو شخص کوئی برائی کرے تو اس کے حق میں ایک برائی لکھ دی جاتی ہے۔

ان دونوں عمل کا بدلہ ان کے برابر ملتا ہے۔ بغیر کسی اضافہ کے۔

پانچویں قسم: ایسی نیکی جس کا بدلہ دس گنا ملتا ہے۔ یہ اس شخص کے حق میں ہوتا ہے جو کسی نیکی کا ارادہ کرے اور اسے انجام بھی دے دے۔ اس کے حق میں دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔

چھٹی قسم: ایسی نیکی جس کا بدلہ سات سو گنا ملتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ کی راہ میں کوئی مال خرچ کرے، تو اس کے حق میں اس نیکی کے بدلے سات سو گنا اجر وثواب لکھا جاتا ہے۔ یہ بندوں پر اللہ تبارک وتعالی کا خاص فضل واحسان ہے۔

جہاں تک لوگوں کی چار قسموں کی بات ہے، تو وہ یہ ہیں:

پہلی قسم: وہ شخص جسے دنیا میں کشادہ رزق ملتا ہے۔ چنانچہ وہ دنیا کے اندر ناز ونعم کی زندگی گزارتا ہے اور اپنی ساری خواہشات پوری کرتا ہے، لیکن آخرت میں اسے تنگی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ اس سے مال دار کافر مراد ہے۔

دوسری قسم: وہ شخص جسے دنیا میں رزق کی تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن آخرت میں اسے فراخی ہی فراخی ملے گی اور اس کا ٹھکانہ جنت ہوگا۔ اس سے مراد فقیر مؤمن ہے۔

تیسری قسم: وہ شخص جسے دنیا وآخرت ہر جگہ تنگی ہی تنگی نصیب ہوتی ہے۔ اس سے مراد فقیر کافر ہے۔

چوتھی قسم: وہ شخص جسے دنیا وآخرت ہر جگہ فراخی ہی فراخی نصیب ہوتی ہے۔ اس سے مراد مال دار مؤمن ہے۔

حدیث کے فوائد

  • بندوں پر اللہ تعالی کا بہت بڑا فضل واحسان ہے کہ وہ نیکیوں کا اجر وثواب بڑھا چڑھا کر دیتا ہے۔
  • اللہ تعالی کا یہ عدل اور اس کا کرم ہے کہ وہ گناہ کرنے پر ہمارے ساتھ عدل کا معاملہ کرتا ہے اور ہر برائی پر صرف ایک گناہ درج کرتا ہے۔
  • اللہ کے ساتھ شرک کرنے کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے کہ اس کی وجہ سے انسان جنت سے محروم ہو جاتا ہے۔
  • اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
  • اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا ثواب سات سو گنا سے شروع ہوتا ہے، کیوں کہ اس سے اللہ کے کلمہ (توحید) کو بلند کرنے میں مدد ملتی ہے۔
  • لوگوں کی مختلف قسموں کا بیان اور ان کے اندر جو عملی اختلاف پایا جاتا ہے، اس کی وضاحت۔
  • دنیا میں مؤمن اور غیر مؤمن ہر کسی کو فراخی ملتی ہے، لیکن آخرت میں صرف مؤمن کو ہی فراخی وکشادگی ملے گی۔

Explanation

The Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him) reports that there are six types of deeds and four types of people. The six types of deeds are:

First: Whoever dies while not associating anything with Allah, Paradise is guaranteed for him.

Second: Whoever dies while associating anything with Allah Hellfire is guaranteed for him, forever.

These are the two imperatives.

Third: The intended good deed-If a person sincerely intends to do a good deed until he feels it in his heart and it becomes known to Allah, and then something occurs and he cannot do this good deed, it will be recorded for him as a full good deed.

Fourth: The committed sin-Whoever commits a sin, it is recorded against him as one sin.

These two are the one and its equal reward, without multiplication.

Fifth: A good deed multiplied ten times in reward-Whoever intends to do a good deed and performs it, it will be recorded for him as ten honorable deeds.

Sixth: A good deed multiplied seven hundred times-This is the good deed of spending in the way of Allah, which is recorded for its performer as seven hundred virtuous deeds. This is due to Allah's grace and bounty towards His servants.

As for the four types of people, they are:

First: One who has abundant sustenance in this world and finds bliss and whatever he wants in it, yet he will be in straits in the Hereafter and his destination will be Hellfire. That is the wealthy disbeliever.

Second: One who has little sustenance in this world, yet he will be opulent in the Hereafter and his destination will be Paradise. That is the poor believer.

Third: One who is in straits in this world and in the Hereafter. That is the poor disbeliever.

Fourth: One who enjoys opulence in this world and in the Hereafter. That is the wealthy believer.

Topics موضوعات