لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ” کہہ دیجیے، میں قیامت کے دن آپ کے لیے اس کےبارے میں گواہ بن جاؤں گا
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65069Sahih Muslim (HadeethEnc 65069)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سے، جب کہ وہ مرض الموت میں تھے، یہ مطالبہ کیا کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیں، تاکہ آپ اس کی بدولت قیامت کے دن ان کے حق میں سفارش کر سکیں اور ان کے اسلام لانے کی گواہی دے سکیں، لیکن انہوں نے اس خوف سے کلمۂ شہادت پڑھنے سے انکار کر دیا کہ قریش کے لوگ انہیں سب وشتم کریں گے اور کہیں گے کہ انہوں نے موت کے خوف سے کمزور پڑ کر اسلام قبول کر لیا! انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر ایسی بات نہ ہوتی، تو وہ کلمۂ شہادت پڑھ کر آپ کے دل کو خوش کر دیتے اور آپ کی آرزو پوری کردیتے۔ اسی موقع پر اللہ نے وہ آیت نازل فرمائی، جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر قادر نہیں کہ اسلام قبول کرنے کی ہدایت دے سکیں، بلکہ صرف اللہ عز وجل ہی جسے چاہتا ہے اس کی توفیق دیتا ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کی رہنمائی کرتے، ان کے سامنے حق بیان کرتے اور انہیں راہ مستقیم کی دعوت دیتے ہیں۔
حدیث کے فوائد
- لوگوں کے تبصرے کے خوف سے حق کو چھوڑنا درست نہیں۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف اس بات پر قادر تھے کہ لوگوں کی رہنمائی کر سکیں، ہدایت قبول کرنے کی توفیق دینا اللہ کا کام ہے۔
- اسلام کی دعوت دینے کے لیے کافر کی زیارت کرنا مشروع ہے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر حال میں اللہ تعالی کی طرف دعوت دینے کا خوب سے خوب اہتمام کرتے تھے۔
Explanation
The Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him) asked his uncle Abu Tālib, while in the throes of death, to utter the testimony of faith, so that he could intercede for him with it on the Day of Judgment and testify that he was a Muslim. But he refused to utter it, fearing that the Quraysh would revile him and say that he embraced Islam out of fear of death and weakness! He said to the Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him): Were it not for that, I would have made you joyful by saying the testimony, fulfilling your wish and making you pleased. So, Allah Almighty revealed a verse indicating that the Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him) cannot guide people in the sense of inspiring them to accept Islam, but it is Allah Almighty alone Who grants such guidance to whomever He wills; and that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) guided them by clarifying, showing, and calling them to the straight path.