اس کے پاس جاؤ اور اسے بتادو کہ جہنمیوں میں سے نہیں، بلکہ جنتیوں میں سے ہیں۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65073Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 65073)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ایک بار اللہ کے نبی صلی اللہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو غیر حاضر دیکھا اور ان کے بارے میں پوچھا، تو ایک شخص نے بتایا کہ میں جاکر پتہ لگاتا ہوں اور آپ کو بتاتا ہوں کہ وہ غائب کیوں ہیں؟ چنانچہ وہ شخص ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا، تو دیکھا کہ وہ اپنے گھر میں اداس ہوکر سر جھکائے بیٹھے ہیں۔ اس شخص نے جب حال پوچھا، تو انھوں نے وہ کرب بتایا، جس سے وہ گزر رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی آواز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی آواز سے اونچی ہو جایا کرتی تھی اور اللہ نے ایسا کرنے والے کو یہ دھمکی دی ہے کہ اس کے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور وہ جہنم میں داخل ہوگا۔
چنانچہ وہ شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ دیکھا اور سنا تھا، سب کچھ بتا دیا، تو آپ نے حکم دیا کہ وہ دوبارہ ثابت بن قیس کے پاس جائیں اور ان کو یہ خوش خبری دیں کہ وہ جہنمی نہيں، بلکہ جنتی ہیں۔ ایسا اس لیے کہ ان کی آواز پیدائشی طور پر اونچی تھی اور وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور انصار کے خطیب تھے۔
حدیث کے فوائد
- ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور اس بات کا بیان کہ وہ جنتی ہيں۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم صحابۂ کرام کا خیال رکھتے اور ان کی خبر گیری فرماتے تھے۔
- صحابۂ کرام کو ہمیشہ اس بات کا ڈر لگا رہتا تھا کہ کہیں ان کے اعمال ضائع نہ ہو جائیں۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی میں آپ سے بات کرتے وقت ادب کا لحاظ رکھنا ضروری تھا اور آپ کی وفات کے بعد آپ کی حدیث سنتے وقت آواز دھیمی رکھنا واجب ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) noticed the absence of Thābit ibn Qays (may Allah be pleased with him) and asked about him. So, a man said: I will bring you his news and the reason behind his absence. He went to him and found him drooping his head sadly in his house. He asked him: What is wrong with you? Thābit told him about the evil circumstances he was experiencing, for he used to raise his voice over the Prophet's voice, and Allah threatened those who did so with the annulment of their deeds and that they would be among the people of Hellfire.
The man returned to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and told him about that. Thereupon, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) ordered him to go back to Thābit and give him glad tidings that he was not one of the people of Hellfire but one of the people of Paradise. This is because his voice was naturally loud and because he was the speaker of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) and the speaker of the Ansār.