جب تم میں سے کسی کو اپنے پیٹ میں کچھ محسوس ہو اور اسے شبہ ہو جائے کہ اس میں سے کچھ نکلا ہے یا نہیں، تو ہرگز…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65083Sahih Muslim (HadeethEnc 65083)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب نمازی کے پیٹ میں کوئی چیز ادھر سے ادھر آئے جائے اور اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو کہ پیٹ سے کچھ نکلا ہے یا نہیں، تو نماز توڑ کر دوبارہ وضو کرنے کے لیے اس وقت تک باہر نہ نکلے، جب تک اسے یقین نہ ہو جائے کہ وضو ٹوٹ ہی گیا ہے۔ وہ اس طرح کہ ریح خارج ہونے کی آواز سن لے یا اس کی بدبو محسوس ہونے لگے۔ کیوں کہ یقین شک کی بنیاد پر زائل نہيں ہوتا اور یہاں طہارت کا ہونا ایک یقینی امر ہے، جب کہ وضو ٹوٹا ہے یا نہیں، اس بات میں شک ہے۔
حدیث کے فوائد
- یہ حدیث اسلام کی ایک اہم ترین اساس ہے, اور اس کے اندر ایک فقہی قاعدہ کا بیان ہے جو کہ یہ ہے کہ یقین شک کی بنیاد پر زائل نہیں ہوتا۔ اصل یہ ہے کہ جو چیز تھی اور جس حالت میں تھی، وہ رہے گی اور اسی حالت میں رہے گی، جب تک اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ معاملہ برعکس ہو گیا ہے۔
- شک طہارت پر اثر انداز نہيں ہوتا۔ نمازی کی طہارت اس وقت تک باقی رہے گی، جب تک طہارت ٹوٹنے کا یقین نہ ہو جائے۔
Explanation
The Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him) explained that if a person feels some disturbance in his stomach and he is not sure whether something has come out of him, he should not leave his prayer and cut it off to renew his ablution, unless he ascertains that his ablution was broken, by hearing the sound of wind or smelling its odor. This is because a doubtful one does not nullify a certain thing, and he is certain about his purification but doubtful whether it has been broken or not.