صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہر سات دن میں ایک دن غسل کرے، جس کے اندر وہ اپنے سر اور جسم کو دھوئے۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
65084Sahih صحیح
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا، يَغْسِلُ فِيهِ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہر سات دن میں ایک دن غسل کرے، جس کے اندر وہ اپنے سر اور جسم کو دھوئے۔"
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "It is due upon every Muslim to bathe for one day every seven days, in which he should wash his head and body."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #65084

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ہر بالغ و عاقل مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ طہارت و نظافت حاصل کرنے کے لیے ہر ہفتہ سات دنوں میں ایک دن غسل کرے۔ اس دن وہ اپنے سر اور جسم کو دھوئے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ ان سات دنوں میں سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے، جیسا کہ بعض روایتوں سے سمجھ میں آتا ہے۔ جمعہ کے دن جمعے کی نماز سے پہلے غسل کرنا بالتاکید مستحب ہے۔ کسی نے جمعرات کے دن غسل کر لیا ہو، تب بھی یہ استحباب برقرار رہے گا۔ جمعہ کے دن غسل کرنا واجب نہیں ہے، اس کی دلیل عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول ہے : "لوگ اپنے گھر کے کام کاج خود ہی کرتے تھے اور جب جمعہ کی نماز کے لیے جاتے، تو اسی حالت میں چلے چاتے تھے۔ لہذا ان سے کہا گیا کہ اگر تم غسل کر لیا کرو، تو بہتر ہے۔" اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے : "ان سے بدبو آتی تھی۔" یعنی پسینے وغیرہ کی بدبو۔ لیکن اس کے باجود یہ کہنا کہ اگر غسل کر لیا کرو، تو بہتر ہے، اس بات کی دلیل ہے کہ جب بدبو نہ آئے، تو غسل کرنے کی اور بھی ضرورت نہیں ہے۔

حدیث کے فوائد

  • نظافت اور طہارت پر اسلام کی توجہ۔
  • جمعہ کے دن جمعے کی نماز کے لیے غسل کرنا بالتاکید مستحب ہے۔
  • سر اگر چہ جسم کے اندر داخل ہے، لیکن اس حدیث میں اس کا الگ سے ذکر اس کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
  • ہر اس آدمی پر غسل فرض ہے، جس کے جسم سے بدبو آتی ہو کہ جس سے لوگ اذیت محسوس کرتے ہوں۔
  • جس دن غسل کرنے کی سب سے زیادہ تاکید ہے، وہ جمعے کا دن ہے۔ کیوں کہ جمعے کا دن بڑی فضیلت والا دن ہے۔

Explanation

The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that it is due upon every rational and mature Muslim to take a bath once a week, in which he washes his head and body, seeking purification and cleanliness. The worthiest among these days is Friday, as understood from some versions. For example, bathing on Friday before the prayer is highly recommended, even if one has taken one on Thursday. What indicates that the bath on Friday is not obligatory is the statement by 'Ā’ishah (may Allah be pleased with her): "The people used to work, and whenever they went for the Friday prayer, they would go in the same condition as they had been in work. So, it was said to them: 'If only you had taken a bath'" [Narrated by Al-Bukhāri]. In another version by him: "They were smelling bad", i.e., the smell of sweat. Despite that, it was said to them: "If only you had taken a bath." so that others are more likely to do so.

Topics موضوعات