صحیح مسلم
Sahih Muslim

’’اللہ عزوجل نہیں سوتا، اور نہ ہی سونا اس کے شایان شان ہے

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
65114Sahih صحیح
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ، فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ القِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّورُ -وَفِي رِوَايَةٍ: النَّارُ- لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ».
ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ ہمارے درمیان پانچ باتیں کہنے کے لیے کھڑے ہوئے، اور فرمایا: ’’اللہ عزوجل نہیں سوتا، اور نہ ہی سونا اس کے شایان شان ہے، وہ ترازو کو جھکاتا اور اٹھاتا کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کے پاس پیش کیا جاتا ہے، اس کا حجاب نور ہے -اور ایک روایت میں: آگ ہے- اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کا جلال وجمال ان تمام مخلوقات کو جلا دے گا جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے گی‘‘۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Mūsa (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) stood among us and said five statements: "Allah Almighty does not sleep, and it is not befitting of Him to sleep. He lowers the Scales and raises them. The deeds done during the night are taken up to Him before the deeds done during the day, and the deeds done during the day before the deeds done during the night. His veil is light— and in another version: fire—and if He were to remove it, the glory of His Face would burn everything of His creation as far as His sight extends."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: رواه مسلم
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #65114

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو خطبہ دیتے ہوئے پانچ مکمل جملے ارشاد فرمائے، جو یہ ہیں: پہلاجملہ: اللہ عزوجل سوتا نہیں ہے۔ دوسرا جملہ: اس کی کامل قیّومیت اور مکمل حیات کی وجہ سے اس کے حق میں نیند محال ہے۔ تیسرا جملہ: اللہ تعالیٰ میزان کو جھکاتا اور اٹھاتا ہے؛ بندوں کے ان اعمال کے وزن کے ذریعے جو اس کی طرف بلند ہوتے اور چڑھتے ہیں اور ان کی روزیوں کے وزن کے ذریعے جو زمین کی طرف نازل ہوتی ہیں۔ چنانچہ رزق جو ہر مخلوق کا حصہ اور نصیب ہے، اللہ سبحانہ اسے پست کرکے تنگ کردیتا ہے اور بلند کرکے کشادہ کردیتا ہے۔ چوتھا جملہ: بندوں کے رات کے اعمال اگلے دن سے پہلے اور دن کے اعمال اگلی رات سے پہلے اللہ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں؛ چنانچہ نگہبان فرشتے رات کے اعمال اس کے ختم ہونے پر دن کے شروع میں، اور دن کے اعمال اس کے ختم ہونے پر رات کے شروع میں اوپر لے جاتے ہیں۔ پانچواں جملہ: اللہ سبحانہ و تعالی کا حجاب جو اس کے دیدار سے مانع ہے، نور ہے یا آگ۔ اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی کرنوں سے تاحد نگاہ ساری مخلوقات جل کر خاک ہوجائیں؛ چنانچہ اس کے چہرے کی تجلیات اس کا نور، اس کا جلال اور اس کی شان ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ اپنے دیدار سے مانع چیز یعنی حجاب کو ہٹا دے اور اپنی مخلوق پر تجلی فرمائے، تو اس کے چہرے کی کرنوں سے تاحد نگاہ اس کی ساری مخلوق جل کر خاک ہوجائے؛ اور اس سے مراد تمام مخلوقات ہیں؛ کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کی نگاہ تمام مخلوقات کو محیط ہے۔

حدیث کے فوائد

  • اللہ سبحانہ و تعالی کے لئے سونے کے محال ہونے کا بیان، کیونکہ یہ نقائص میں سے ہے اور اللہ ان سے پاک ہے۔
  • اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے عزت عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے، اور جسے چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے۔
  • اعمال ہر دن اور ہر رات اللہ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں، اس میں بندوں کے لیے ترغیب ہے کہ وہ اپنے شب وروز میں اللہ عز وجل کو نگہبان جانیں۔
  • یہ حدیث اللہ سبحانہ کے عدل اور اپنی مخلوق کے امور سے متعلق اس کے حسنِ تدبیر پر دلالت کرتی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اللہ جل وعلا کی صفاتِ کمال میں سے ہے۔
  • اللہ سبحانہ و تعالی کے لیے حجاب کا ثبوت، یہ وہ نور ہے جو اس کے اور اس کی مخلوق کے درمیان حائل ہے، اگر یہ نہ ہوتا تو وہ جل کر خاک ہو جاتے۔
  • آجُرِّی کہتے ہيں: "اہل حق اللہ کے عز و جل کے وہی اوصاف بیان کرتے ہیں جو خود اللہ تبارک و تعالی نے بیان کیے ہیں، اس کے رسول ﷺ نے بیان کیے ہیں اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے بیان کیے ہیں۔ یہی اتباع سنت کے علم بردار اور بدعت سے گریزاں رہنے والے علما کا مسلک ہے۔" چنانچہ اہل سنت اللہ تبارک و تعالی کے انھیں اسما وصفات کو ثابت کرتے ہیں جنھیں خود اللہ نے اپنے لیے ثابت کیا ہے۔ وہ بھی تحریف، تعطلیل، تکییف اور تمثیل سے دامن بچاتے ہوئے۔ نیز اللہ کی ذات سے ان اسما وصفات کی نفی کرتے ہیں، جن کی نفی اس نے خود کی ہے اور جن اسما وصفات کے بارے میں نفی واثبات کچھ نہیں وارد ہو، ان کے بارے میں خاموش رہتے ہيں۔ اللہ تعالی نے فرمایا: "اس کے جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے"۔
  • وہ نور جو اللہ سبحانہ تعالی کا وصف ہے، اس نور سے الگ ہے جس کے ذریعہ اس نے حجاب اختیار کیا ہے۔ وہ نور جس سے اس نے حجاب اختیار کیا ہے، ایک مخلوق نور ہے، چنانچہ اللہ تعالی کا نور تو ایسا نور ہے جو اس کی ذات کے شایان شان ہے، اس جیسی کوئی چیز نہیں، اور نبی ﷺ نے جو دیکھا تھا وہ تو بس وہی حجاب تھا جو اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان حائل ہے۔

Explanation

The Prophet (ﷺ) stood as a preacher among his Companions and delivered five complete statements, which were: First: Allah Almighty does not sleep. Second: It is impossible for Him to sleep, due to the perfection of His Self-Subsistence and Everlasting Life. Third: Allah Almighty lowers and raises the Scales according to the deeds of His servants that ascend to Him, and according to the provisions that descend from Him to the earth. Thus, the sustenance—which is the allotted share of every creature—He decreases it for some, constricting it, and increases it for others, expanding it as He wills. Fourth: The deeds of the servants are raised to Him—the deeds done at night are lifted before the coming of the following day, and the deeds done during the day are lifted before the coming of the following night. Thus, the guardian angels ascend with the record of the night's deeds after its end at the beginning of the day, and they ascend with the record of the day's deeds after its end at the beginning of the night. Fifth: His Veil—exalted be He—is what prevents His being seen; it is light or fire. If He were to uncover it, the glory of His Face would burn everything of His creation as far as His Sight reaches. Indeed, the glory of His Face is His Light, Majesty, and Splendor. The meaning is: if He were to remove and lift the barrier that prevents seeing Him—that is, the Veil—and were to manifest Himself to His creation, the glory of His Face would burn everything His Sight reaches, which includes all creatures, as His Sight encompasses all created beings.

Topics موضوعات