انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ کی قراءت کیسی تھی؟ تو انھوں نے فرمایا: ”مد والی تھی“
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
He replied: "It was with Madd (elongation)." Then he recited: {In the Name of Allah, the Most Compassionate, the Most Merciful} [Surat al-Fātihah: 1] while extending the pronunciation of {In the Name of Allah,} and extending {the Most Compassionate}, and extending {the Most Merciful}.
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: رواه البخاري
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65245Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 65245)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ قرآن کیسے پڑھتے تھے؟ تو انھوں نے فرمایا: ”آپ ﷺ کی قراءت مد والی تھی؛ آپ ﷺ الله کے لام کو، الرحمن کے میم کو اور الرحیم کی حا کو کھینچتے تھے۔“
حدیث کے فوائد
- مد سے مراد حروفِ مدہ یعنی الف، واو اور یاء کو کھینچ کر پڑھنا ہے، جب وہ ساکن ہوں اور ان سے پہلے ان کے مناسب حرکت ہو۔
- تلاوتِ قرآن کے سلسلے میں نبی ﷺ کے طریقے کا بیان۔
- نبی اکرم ﷺ کی قراءت کی کیفیت بیان کرنے کی عملی تطبیق۔
- سندھی کہتے ہيں: ان کے قول ”يمد صوته مدًا“ سے مراد یہ ہے کہ وہ ان حروف کو دراز کرتے ہیں جو دراز کیے جانے کے لائق ہوں، تاکہ اس کے ذریعے تدبر وتفکر میں مدد حاصل کریں اور نصیحت قبول کرنے والوں کو یاد دہانی کرائیں۔
- تجوید اور علوم قرآن جاننے کی اہمیت۔
- نصوص کو سمجھنے کے لیے علماء کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے سائل کے لیے وضاحت فرما دی۔
Explanation
Anas ibn Mālik (may Allah be pleased with him) was asked how the Prophet (ﷺ) used to recite the Qur’an. He said: He would prolong his voice in recitation with Madd (elongation);
he would extend the lām before the hā’ in the word Allāh,
extend the mīm before the nūn in Ar-Rahmān, and extend the hā’ in Ar-Rahīm.