میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا، پھر وضو فرمایا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65378Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 65378)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے پاؤں دھونے کے بجائے اپنے دونوں موزوں پر مسح کر لیا۔ تو ان کے پاس موجود لوگوں نے ان سے کہا: آپ ایسا کرتے ہیں؟! انہوں نے کہا: ہاں، میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا، پھر وضو فرمایا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح فرمایا۔ جریر رضی اللہ عنہ سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد دیر سے اسلام قبول کیے تھے، جس میں وضو کی آیت ہے، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ موزوں پر مسح کا حکم اس آیت سے منسوخ نہیں ہوا۔
حدیث کے فوائد
- صحابہ وتابعین نبی ﷺ کی سنت کی اتباع کے حریص تھے۔
- امام نووی کہتے ہیں: معتبر اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ سفر وحضر، دونوں حالتوں میں موزوں پر مسح کرنا جائز ہے، خواہ اس کی کوئی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ یہاں تک کہ گھر میں رہنے والی عورت اور چلنے پھرنے سے معذور شخص کے لیے بھی یہ جائز ہے۔
- جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت یہ ہے کہ وہ بڑے وسیع القلب تھے، اپنے شاگردوں کی نکیر برداشت کرتے تھے، خواہ وہ اس معاملے میں غلطی پر ہی کیوں نہ ہوں۔
- موزوں پر مسح کے منکر اور اس کی منسوخی کا دعوی کرنے والے کی تردید؛ کیونکہ جریر رضی اللہ عنہ کی حدیث آیت وضوء کے بعد کی ہے۔
- اس بات کا بیان کہ جس شخص کی کسی بات پر نکیر کی جائے اور وہ اسے درست سمجھتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ نکیر کرنے والے پر غصہ نہ ہو اور اپنے گمان کے مطابق اس سے بحث نہ کرے، بلکہ احسن طریقے سے اس کے سامنے اپنی دلیل واضح کر دے۔
- ضرورت پڑنے پر تاریخ سے استدلال۔
Explanation
Jarīr ibn ‘Abdullah (may Allah be pleased with him) urinated, then performed ablution and was content with wiping over his leather socks without washing his feet. Those around him said: Are you really doing this?! He replied: Yes, I saw the Prophet (ﷺ) urinate, then perform ablution and wipe over his leather socks. Jarīr had embraced Islam late after the revelation of Surat al-Mā’idah, which contains the verse of ablution—indicating that wiping over the leather socks was not abrogated by that verse.