نبی ﷺ جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج اچھی طرح طلوع ہو جاتا۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65411Sahih Muslim (HadeethEnc 65411)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی ﷺ کی سنت میں سے ہے کہ جب آپ فجر کی نماز سے فارغ ہو جاتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج بلند ہو جاتا، اور آپ ﷺ اپنی فجر کی نماز والی جگہ سے اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک کہ سورج طلوع نہ ہو جاتا۔ پھر جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ ﷺ اٹھ جاتے، صحابہ کرام -رضی اللہ عنہم- اسلام سے پہلے کے اپنے بعض معاملات کا تذکرہ کرنے لگتے اور آپ ﷺ خاموش رہتے، تو وہ ہنستے اور بسا اوقات آپ ﷺ بھی ان کے ساتھ تبسم فرما لیتے۔
حدیث کے فوائد
- صبح کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے تک ذکر کرنا، اور بغیر کسی عذر کے اپنی نشست کو لازم پکڑنا مستحب ہے۔
- یہ نبی ﷺ کے مکارمِ اخلاق اور نرم مزاجی کا بیان ہے کہ آپ اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے، ان کی گفتگو اور قصے سنتے اور ان پر تبسم فرماتے تھے۔
- مسجد میں گفتگو کرنا اور ایامِ جاہلیت کا ذکر کرنا جائز ہے۔
- ہنسی اور تبسم کی اجازت؛ کیونکہ ممانعت زیادہ ہنسنے کی آئی ہے۔
Explanation
It was from the Sunnah of the Prophet (ﷺ) that when he performed the Fajr prayer, he would remain seated in his prayer place until the sun rose high. He would not leave his place of prayer where he had performed Fajr until the sun had risen. When the sun had risen, he would stand up, and they would begin talking, mentioning some matters from their pre-Islamic days while he remained silent. They would laugh, and he would sometimes smile with them.