صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

اے اللہ! میں بھی ایک بشر ہی ہوں، چنانچہ مسلمانوں میں سے جس کسی شخص کو میں نے برا بھلا کہا ہو، یا اس پر لعنت…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
65812Sahih صحیح
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ المُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: «اے اللہ! میں بھی ایک بشر ہی ہوں، چنانچہ مسلمانوں میں سے جس کسی شخص کو میں نے برا بھلا کہا ہو، یا اس پر لعنت کی ہو، یا اسے مارا ہو، تو اسے اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت بنا دے۔»
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "O Allah, I am only human. Any Muslim man whom I insulted, cursed, or flogged, make it a means of purification and mercy for him."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #65812

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی ﷺ نے دعا فرمائی: اے اللہ! میں بھی ایک بشر ہی ہوں، مجھے بھی اسی طرح غصہ آجاتا ہے جس طرح انسانوں کو آتا ہے۔ لہذا جس کسی مومن کو میں نے تکلیف دی ہو، یا اسے برا بھلا کہا ہو، یا اس پر لعنت بھیجی ہو، یا اسے مارا ہو، تو اس عمل کو اس کے لیے پاکیزگی، قربت، گناہوں سے صفائی، کفارہ اور ایسی رحمت بنا دے جس کے سبب تو اس پر رحم فرمائے۔

حدیث کے فوائد

  • اللہ کے نبی ﷺ کا عظیم اخلاق۔
  • ابن حجر کہتے ہیں: اس حدیث سے اپنی امت پر آپ ﷺ کی کمالِ شفقت، آپ کا حسنِ اخلاق اور آپ کی ذات کا کرم معلوم ہوتا ہے، کہ آپ ﷺ نے آپ سے سرزد ہونے والے فعل کے جواب میں دل جوئی اور تکریم کا قصد فرمایا۔
  • نووی کہتے ہیں: اگر یہ سوال کیا جائے کہ آپ ﷺ کسی ایسے شخص کو کیسے بد دعا دے سکتے ہیں، یا اسے برا بھلا کہہ سکتے ہیں، یا اس پر لعنت بھیج سکتے ہیں جو اس کا اہل نہ ہو؟ تو اس کا جواب وہی ہے جو علماء نے دیا ہے، اور اس کی دو توجیہات ہیں: پہلی توجیہ یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص حقیقت میں اللہ تعالی کے نزدیک اس کا اہل نہیں ہوتا، لیکن بظاہر وہ اس کا مستحق ہوتا ہے۔ چنانچہ نبی ﷺ کے سامنے کسی شرعی علامت کی بنا پر اس کا مستحق ہونا ظاہر ہو جاتا ہے، جب کہ درحقیقت وہ اس کا اہل نہیں ہوتا۔ جبکہ نبی ﷺ کو ظاہر پر حکم لگانے کا حکم دیا گیا ہے، اور باطنی امور اللہ کے سپرد ہیں۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کا کسی کو برا بھلا کہنا یا بد دعا دینا وغیرہ مقصود نہیں ہوتا تھا، بلکہ یہ عربوں کی عادت کے مطابق تکیہ کلام کے طور پر بغیر کسی نیت کے ہوتا تھا، جیسے ان کا کہنا: تَرِبَت يمينك (تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں)، عَقْرَى حَلْقَى (تو ہلاک ہو جا)۔ اور اسی حدیث میں آیا ہے: (لا كبرت سنك) (تیری عمر دراز نہ ہو)، اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: (لا أشبع الله بطنك) (اللہ تیرا پیٹ نہ بھرے) وغیرہ۔ ان کلمات سے ان کا مقصد حقیقی بد دعا دینا نہیں ہوتا تھا۔ نبی ﷺ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں ان میں سے کوئی بات قبولیت کی گھڑی سے موافق نہ ہو جائے، چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے رب سبحانہ وتعالی سے سوال کیا اور درخواست کی کہ وہ اسے رحمت، کفارہ، قربت کا ذریعہ، پاکیزگی اور اجر بنا دے۔ ایسا آپ ﷺ سے کبھی کبھار ہی ہوتا تھا، اور نبی ﷺ نہ تو فحش گو تھے، نہ جان بوجھ کر فحش کلامی کرنے والے تھے، نہ بہت زیادہ لعنت کرنے والے تھے اور نہ ہی اپنی ذات کے لیے بدلہ لینے والے تھے۔

Explanation

The Prophet (ﷺ) supplicated, saying: O Allah, I am only human. I become angry as humans do. So, any believer whom I have harmed, insulted, reviled, cursed, prayed to be expelled from Your mercy, or flogged and struck, make that a source of purification, a means of nearness to You, an expiation, and a mercy by which You show him mercy.

Topics موضوعات