صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

”تمام اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیّت کی ہو

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
66511Sahih صحیح
عَنْ أَمِيرِ المُؤْمِنِينَ أَبِي حَفْصٍ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إلَى مَا هَاجَرَ إلَيْهِ».
امیر المؤمنين ابو حفص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”تمام اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیّت کی ہو۔ چنانچہ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کی طرف سمجھی جائے گی، اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہے تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے سمجھی جائے گی، جس کے لیےاس نے ہجرت کی ہے۔“
— HadeethEnc اردو ترجمہ
The Commander of the Believers, Abu Hafs ‘Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him) reported: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Verily, the reward of deeds depends on intentions, and each person will be rewarded according to what he intended. So, he whose emigration is for the sake of Allah and His Messenger, his emigration will be for the sake of Allah and His Messenger, and he whose emigration is to achieve some worldly gain or take some woman in marriage, his migration will be for what he has migrated for."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام المحدثین ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراھیم بن مغیرۃ بن بردزبہ بخاری اور امام المحدثین ابو الحسین مسلم بن حجاج بن مسلم قشیری نیساپوری نے اپنی ان دو صحیح کتابوں میں روایت کیا ہے، جو (حدیث
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #66511

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ سارے اعمال کا اعتبار نیت کی بنیاد پر ہے۔ یہ حکم عبادات اور معاملات جیسے سبھی اعمال کے لیے عام ہے۔ جو شخص کسی منفعت کے پیش نظر کوئی کام کرے گا، اسے ثواب نہیں، بلکہ بس وہی منفعت حاصل ہوگی اور جو اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے کوئی کام کرے گا، اسے اپنے عمل کا ثواب ملے گا، چاہے وہ عمل کھانے اور پینے جیسا معمول کے مطابق کیا جانے والا کام ہی کیوں نہ ہو۔

پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اعمال پر نیت کے اثر کو بیان کرنے کے لیے ایک مثال پیش کی، جس میں ہم دیکھتے ہیں کہ عمل کی ظاہری شکل ایک ہونے کے باوجود ملنے والا نتیجہ الگ الگ ہے۔ آپ نے بتایا کہ جس نے ہجرت اور اپنا وطن چھوڑنے کے پیچھے نیت یہ رکھی کہ اللہ کی خوش نودی حاصل ہوجائے، اس کی ہجرت دینی ہجرت ہے اور اسے اس کی صحیح نیت کی وجہ سے ثواب ملے گا۔ اس کے برخلاف جس نے ہجرت کرتے وقت دنیوی منفعت، جیسے مال و دولت، عہدہ و منصب، تجارت اور شادی وغیرہ کو پیش نظر رکھا، اسے بس وہی منفعت حاصل ہوگی، جسے حاصل کرنے کی اس نے نیت کی تھی۔ اجر و ثواب اور نیکی اس کے حصے میں نہيں آئے گی۔

حدیث کے فوائد

  • اخلاص کی ترغیب، کیوں کہ اللہ بس اسی عمل کو قبول کرتا ہے، جسے اس کی خوش نودی حاصل کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہو۔
  • جن اعمال کے ذریعے اللہ عز و جل کا تقرب حاصل کیا جا سکتا ہے، ان کو اگر کوئی شخص عادت کے طور پر کرتا ہے، تو اسے ان کا کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ ان کا اجر و ثواب اسی وقت ملے گا، جب ان کو اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے کیا جائے۔
  • نیت ہی کی بنیاد پر عباتوں کے درمیان فرق اور عبادت کو عادت سے الگ کیا جاتا ہے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) explains that all deeds are considered according to the intention behind them. This ruling generally applies to all deeds, including acts of worship and dealings. So, he who seeks by his deed some worldly benefit will attain that benefit and will not be rewarded for it. And he who performs a deed with the intention to draw close to Allah Almighty will be rewarded, even if his deed is an ordinary one, like eating and drinking.

Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) provided an example to illustrate the impact of intention while both deeds apparently look equal. He pointed out that if a person migrates and leaves his homeland with the intention to win the pleasure of his Lord, his migration is a Shar‘i and accepted one, for which he will be rewarded, given his sincere intention; and if a person migrates to attain some worldly benefit, like wealth, high standing, business, or a wife, he will not attain anything from his migration except what benefit he intended, and no reward will be given to him.

Topics موضوعات