دین خیر خواہی کا نام ہے
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #66516Sahih Muslim (HadeethEnc 66516)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی ﷺ نے بتایا کہ دین اخلاص اور صدق کی بنیادوں پر قائم ہے۔ یعنی دین پر عمل مکمل طور پر اسی طرح ہونا چاہیے، جیسے اللہ نے حکم دیا ہے۔ اس میں نہ کوئی کمی ہو اور نہ فریب۔ چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ خیرخواہی کس کی ہونی چاہیے؟ تو آپ نے جواب دیا: 1- اللہ سبحانہ و تعالی کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف اسی کی خاطر عبادت کی جائے، کسی کو اس کا ساجھی نہ بنایا جائے، اس کی ربوبیت، الوہیت اور اس کے اسما وصفات پر ایمان رکھا جائے، اس کے حکم کى تعظیم کی جائے اور اس پر ایمان لانے کی دعوت دی جائے۔ 2- اللہ کی کتاب یعنی قرآن پاک کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کا کلام مانا جائے، اسے اللہ تعالیٰ کی آخری اور پچھلی تمام شریعتوں کو منسوخ کرنے والی کتاب تسلیم کیا جائے، اس کی کما حقہ تعظیم اور تلاوت کی جائے، اس کی محکم آیتوں پر عمل کیا جائے، اس کی متشابہ آیتوں کو تسلیم کیا جائے، اس کی آیتوں کے غلط مطالب بیان کرنے والوں کی غلط بیانیوں کو سامنے لا کر اس کا دفاع کیا جائے، اس کی موعظتوں سے عبرت حاصل کی جائے، اس کے علوم کو پھیلایا جائے اور اس کی دعوت دی جائے۔ 3- اللہ کے رسول ﷺ کے لیے: اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے آخری رسول ہونے پر یقین رکھا جائے، آپ کی لائی ہوئی تعلیمات کی تصدیق کی جائے، آپ کے حکموں کی تعمیل کی جائے، آپ کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہا جائے، آپ کے بتائے ہوئے طریقے ہی کے مطابق اللہ کی عبادت کی جائے، اس بات کو مانا جائے کہ ہمارے اوپر آپ کا بہت بڑا حق ہے، آپ کی عزت کی جائے، آپ کی دعوت کو عام کیا جائے، آپ کى لائی ہوئی شریعت کو پھیلایا جائے اور آپ پر لگائے جانے والے الزامات کا رد کیا جائے۔ 4- مسلم حکمرانوں کی خیر خواہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حق پر ان کی مدد کی جائے، ان سے ٹکرانے سے اجتناب کیا جائے اور نیکی کے کاموں میں ان کی بات سنی اور مانی جائے۔ 5- عام مسلمانوں کی خیر خواہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے، ان کو اچھے کاموں کی دعوت دی جائے، ان کو تکلیف دینے سے گریز کیا جائے، ان کا بھلا ہو اس بات سے محبت رکھی جائے اور نیکی اور تقوی کے کاموں میں ان کے ساتھ باہمی تعاون کا رشتہ رکھا جائے۔
حدیث کے فوائد
- سبھوں کی خیرخواہی کا حکم۔
- دین میں خیرخواہی کا بڑا مقام ہے۔
- دین‘ اعتقادات، اقوال اور اعمال پر مشتمل ہے۔
- خیرخواہی کے اندر یہ بات بھی داخل ہے کہ جس کی خیرخواہی کرنی ہے، اس کے ساتھ کسی بھی طرح کے دھوکے سے نفس کو پاک رکھا جائے اور اس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ رکھا جائے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ کے تعلیم دینے کا ایک بہترین طریقہ یہ تھا کہ آپ پہلے چیزوں کو مجمل طور پر بیان کرتے تھے اور اس کے بعد ان کی تفصیل بیان کرتے تھے۔
- آغاز اہم ترین سے اہم کی طرف کی ترتیب کے ساتھ کرنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اللہ کی خیرخواہی کا ذکر کیا اور اس کے بعد اللہ کی کتاب کی خیرخواہی، اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خواہی، اس کے بعد مسلم حکمرانوں کی خیرخواہی اور اس کے بعد عام مسلمانوں کی خیرخواہی کا ذکر کیا۔
Explanation
The Prophet (ﷺ) informed that the religion rests upon sincerity and truthfulness, to be observed as Allah ordained, in a perfect manner without shortcomings or deception. It was said to the Prophet (ﷺ): To whom should the sincerity be? He said: First: Sincerity should be to Allah Almighty: by performing deeds sincerely for His sake, not associating partners with Him, believing in His lordship, divinity, names, and attributes, revering His command, and calling people to believe in Him. Second: Sincerity should be to His Book, namely the Noble Qur’an: by believing that it is His speech and the last book revealed by Him and that it abrogated all the legislations before it—and by revering it, reciting it correctly, acting upon its definite verses and accepting its ambiguous ones, defending it against the misinterpretation of those who seek to distort it, taking lessons from its admonitions, spreading its knowledge, and calling people to it. Third: Sincerity should be to His Messenger Muhammad (ﷺ): by believing that he is the last Messenger, believing him in all that he came with, observing his commands and prohibitions, worshiping Allah only according to what he came with, venerating and revering him, spreading his call, disseminating his Shariah, and negating the false accusations from him. Fourth: Sincerity should be to the leaders of the Muslims: by helping them in what is right, not disputing with them over power, and hearing and obeying them in what is pleasing to Allah. Fifth: Sincerity should be to the Muslims: by showing kindness to them, calling them to Allah, averting harm from them, wishing good for them, and cooperating with them in righteousness and piety.