”میں تمہیں جس چیز سے روک دوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق بجا لاؤ
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #66517Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 66517)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتایا کہ جب آپ ﷺ ہمیں کسی چیز سے منع کردیں تو ہم پر لازم ہے کہ ہم بلا استثنا اس سے اجتناب کریں اور جب آپ ﷺ ہمیں کسی چیز کا حکم دیں تو ہم پر واجب ہے کہ ہم حسب استطاعت اسے سر انجام دیں۔ پھر آپ ﷺ نے ہمیں اس بات سے خبردار کیا کہ ہم سابقہ امتوں کی طرح نہ ہو جائیں، جنہوں نے اپنے انبیا سے بہت زیادہ سوالات کیے اور ان کی مخالفت کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں مختلف قسم کے عذاب میں مبتلا کر کے ہلاک و برباد کر دیا۔ لہذا ہمیں ان کے جیسا نہ ہونا چاہیے، تاکہ ان کی طرح ہلاک نہ ہو جائيں۔
حدیث کے فوائد
- یہ حدیث مامورات پر عمل کرنے اور منہیات سے بچنے کے سلسلے میں ایک اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
- نہی کے ارتکاب کی ذرا بھی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ جب کہ امر کو استطاعت کے ساتھ مقید کردیا گیا ہے، کیوں کہ آدمی ترک کی قدرت رکھتا ہے اور فعل کے لیے مامور بہ کام کو انجام دینے کی قدرت درکار ہوتی ہے۔
- کثرت سوال کی ممانعت۔ علما نے سوال کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلی قسم میں دین کے ضروری مسائل سے جڑے ہوئے ایسے سوالات آتے ہیں، جن کا مقصد سیکھنا ہو۔ اس طرح کا سوال کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور صحابہ کے سوالات اسی نوع کے ہوا کرتے تھے۔ دوسری قسم میں ایسے سوالات آتے ہیں، جو تعنت اور تکلف کے طور پر کیے جائيں۔ اس طرح کا سوال کرنا منع ہے۔
- اس امّت کو سابقہ قوموں کی طرح اپنے نبیﷺ کی مخالفت میں پڑنے سے متنبہ کیا گیا ہے۔
- کسی چیز کی ممانعت میں اس کا قلیل اور کثیر دونوں شامل ہوتا ہے۔ کیوں اس سے (مکمل طور پر) اسی وقت بچا جاسکتا ہے، جب اس کے کم اور زیادہ مقدار دونوں سے بچا جائے۔ مثال کے طورپر ہمیں سود سے منع کیا گیا ہے، تو اس میں اس کی کم اور زیادہ مقدار دونوں شامل ہوگی۔
- حرام تک پہنچانے والے اسباب سے بھی گریز کرنا چاہیے، اس لیے کہ اجتناب کے معنیٰ میں یہ بھی داخل ہے۔
- کسی انسان کے لیے مناسب نہیں کہ جب وہ رسولﷺکا حکم سنے تو کہے کہ کیا یہ واجب ہے یا مستحب؟ بلکہ اسے فورا حکم کی تعمیل کرنی چاہیے، کیوں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: "فَأْتُوا مِنْهُ مَا استَطَعْتُمْ". یعنی جہاں تک ہو سکے، اس پر عمل کرو۔
- زیادہ سوال کرنا ہلاکت کا سبب ہے، بالخصوص ایسی باتوں کے بارے میں جن کی معرفت حاصل کرنا ممکن نہ ہو، جیسے غیبی مسائل اور قیامت کے احوال۔ ان کے بارے میں زیادہ سوال نہ کرو، ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور تمھارا شمار غلو کرنے والوں میں ہوگا۔
Explanation
The Messenger of Allah (ﷺ) clarified to us that when he forbade us from something, we should avoid it without exception, and when he enjoined us to do something, we should do as much of it as we can. Then, he warned us not to become like some of the past nations, who burdened their prophets with excessive questioning and disagreed with them, and so Allah punished them with various kinds of destruction and ruin. Therefore, we should not be like them lest we be ruined as they were ruined.