صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

”میں تمہیں جس چیز سے روک دوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق بجا لاؤ

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
66517Sahih صحیح
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَخْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُولُ: «مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوهُ، وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَثْرَةُ مَسَائِلِهِمْ، وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ».
ابو ھریرہ عبد الرحمن بن صخر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”میں تمہیں جس چیز سے روک دوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق بجا لاؤ، اس لیے کہ تم سے پہلے کے لوگوں کو بہ کثرت سوال اور اپنے انبیا سے اختلاف نے ہلاک کردیا۔“
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah ‘Abdur-Rahmān ibn Sakhr (may Allah be pleased with him) reported: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Avoid what I have forbidden you from, and do as much as you can of what I have ordered you. Indeed, those before you were ruined because of their excessive questioning and disagreeing with their prophets."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #66517

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتایا کہ جب آپ ﷺ ہمیں کسی چیز سے منع کردیں تو ہم پر لازم ہے کہ ہم بلا استثنا اس سے اجتناب کریں اور جب آپ ﷺ ہمیں کسی چیز کا حکم دیں تو ہم پر واجب ہے کہ ہم حسب استطاعت اسے سر انجام دیں۔ پھر آپ ﷺ نے ہمیں اس بات سے خبردار کیا کہ ہم سابقہ امتوں کی طرح نہ ہو جائیں، جنہوں نے اپنے انبیا سے بہت زیادہ سوالات کیے اور ان کی مخالفت کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں مختلف قسم کے عذاب میں مبتلا کر کے ہلاک و برباد کر دیا۔ لہذا ہمیں ان کے جیسا نہ ہونا چاہیے، تاکہ ان کی طرح ہلاک نہ ہو جائيں۔

حدیث کے فوائد

  • یہ حدیث مامورات پر عمل کرنے اور منہیات سے بچنے کے سلسلے میں ایک اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
  • نہی کے ارتکاب کی ذرا بھی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ جب کہ امر کو استطاعت کے ساتھ مقید کردیا گیا ہے، کیوں کہ آدمی ترک کی قدرت رکھتا ہے اور فعل کے لیے مامور بہ کام کو انجام دینے کی قدرت درکار ہوتی ہے۔
  • کثرت سوال کی ممانعت۔ علما نے سوال کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلی قسم میں دین کے ضروری مسائل سے جڑے ہوئے ایسے سوالات آتے ہیں، جن کا مقصد سیکھنا ہو۔ اس طرح کا سوال کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور صحابہ کے سوالات اسی نوع کے ہوا کرتے تھے۔ دوسری قسم میں ایسے سوالات آتے ہیں، جو تعنت اور تکلف کے طور پر کیے جائيں۔ اس طرح کا سوال کرنا منع ہے۔
  • اس امّت کو سابقہ قوموں کی طرح اپنے نبیﷺ کی مخالفت میں پڑنے سے متنبہ کیا گیا ہے۔
  • کسی چیز کی ممانعت میں اس کا قلیل اور کثیر دونوں شامل ہوتا ہے۔ کیوں اس سے (مکمل طور پر) اسی وقت بچا جاسکتا ہے، جب اس کے کم اور زیادہ مقدار دونوں سے بچا جائے۔ مثال کے طورپر ہمیں سود سے منع کیا گیا ہے، تو اس میں اس کی کم اور زیادہ مقدار دونوں شامل ہوگی۔
  • حرام تک پہنچانے والے اسباب سے بھی گریز کرنا چاہیے، اس لیے کہ اجتناب کے معنیٰ میں یہ بھی داخل ہے۔
  • کسی انسان کے لیے مناسب نہیں کہ جب وہ رسولﷺکا حکم سنے تو کہے کہ کیا یہ واجب ہے یا مستحب؟ بلکہ اسے فورا حکم کی تعمیل کرنی چاہیے، کیوں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: "فَأْتُوا مِنْهُ مَا استَطَعْتُمْ". یعنی جہاں تک ہو سکے، اس پر عمل کرو۔
  • زیادہ سوال کرنا ہلاکت کا سبب ہے، بالخصوص ایسی باتوں کے بارے میں جن کی معرفت حاصل کرنا ممکن نہ ہو، جیسے غیبی مسائل اور قیامت کے احوال۔ ان کے بارے میں زیادہ سوال نہ کرو، ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور تمھارا شمار غلو کرنے والوں میں ہوگا۔

Explanation

The Messenger of Allah (ﷺ) clarified to us that when he forbade us from something, we should avoid it without exception, and when he enjoined us to do something, we should do as much of it as we can. Then, he warned us not to become like some of the past nations, who burdened their prophets with excessive questioning and disagreed with them, and so Allah punished them with various kinds of destruction and ruin. Therefore, we should not be like them lest we be ruined as they were ruined.

Topics موضوعات