”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور (امیر کی بات) سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام امیر بن…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-TirmidhiOriginal wording: رواه أبو داود والترمذي
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #66529Sunan Abi Dawud & Jami' at-Tirmidhi (HadeethEnc 66529)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ایک دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے وعظ فرمایا۔ وعظ اتنا متاثر کرنے والا تھا کہ اس سے لوگوں کے دل دہل گئے اور آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔ یہ منظر دیکھ کر صحابہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک الوداع کہنے والے کی جانب سے پیش کیا جانے والا خطاب ہے۔ کیوں کہ انھوں نے دیکھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خطاب کرتے وقت اپنا کلیجہ نکال کر رکھ دیا۔ لہذا انھوں نے آپ سے کچھ وصیت کرنے کو کہا، تاکہ آپ کے بعد اسے مضبوطی سے پکڑے رہیں۔ چنانچہ آپ نے کہا: میں تم کو اللہ عز وجل کا خوف رکھنے کی وصیت کرتا ہوں۔ یہاں یہ یاد رہے کہ اللہ سے ڈرنے کا مطلب ہے واجبات کو ادا کرنا اور محرمات سے اجتناب کرنا۔ اسی طرح میں تم کو حکمرانوں کا حکم سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں۔ خواہ تمھارا حکمراں کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ یعنی ایک معمولی سے معمولی انسان بھی اگر تمھارا حکمراں بن جائے، تو تم اس سے بدک کر دور مت ہٹو۔ تم اس کی بات مانو، تاکہ فتنے سر نہ اٹھا سکیں۔ کیوں کہ تم میں سے جو لوگ زندہ رہيں گے، وہ بہت سارا اختلاف دیکھیں گے۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ سلم نے اپنے صحابہ کو اس اختلاف سے نکلنے کا راستہ بتایا۔ راستہ یہ ہے کہ آپ کی سنت اور آپ کے بعد مسند خلافت سنبھالنے والے نیک ہدایت یاب خلفا؛ ابو بکر صدیق، عمر بن خطاب، عثمان بن عفان اور علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہم کی سنت کو مضبوطی سے تھام کر رکھا جائے۔ آپ نے اسے داڑھوں سے پکڑنے کا حکم دیا۔ یعنی ہر حال میں سنت کو لازم پکڑا جائے اور اس پر قائم رہا جائے۔ اس کے بعد آپ نے ان کو دین کے نام پر سامنے آنے والی نت نئی چیزوں یعنی بدعات و محدثات سے خبردار کیا۔ کیوں کہ دین کے نام پر سامنے آنے والی ہر نئی چیز گمراہی ہے۔
حدیث کے فوائد
- سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنے اور اس کا اتباع کرنے کی اہمیت۔
- پند و موعظت اور دلوں کو نرم کرنے پر توجہ۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد مسند خلافت پر فائز ہونے والے چاروں صالح اور ہدایت یاب خلفا یعنی ابو بکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کے اتباع کا حکم۔
- دین کے نام پر نئی چیزیں ایجاد کرنے کی ممانعت اور اس بات کا اعلان کہ دین کے نام پر سامنے آنے والی ہر نئی چیز بدعت ہے۔
- مسلمانوں کی زمام حکومت سنبھالنے والے لوگوں کی بات سننا اور ماننا ضروری ہے، جب تک کہ وہ کسی گناہ کے کام کا حکم نہ دیں۔
- ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کا خوف رکھنے کی اہمیت۔
- اس امت میں اختلافات سامنے آتے رہيں گے اور اس طرح کے حالات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور خلفائے راشدین کی سنت کی جانب لوٹنا لازم ہوگا۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) delivered an eloquent sermon that filled the Companions' hearts with fear and filled their eyes with tears. They said: O Messenger of Allah, it seems as if it is an admonition by one who will soon leave us – seeing his earnest effort in doing so. Hence, they asked him to give them advice that they would hold onto after him. He said: I advise you to fear Allah Almighty by carrying out duties and avoiding prohibitions. And to hear and obey, i.e., hear and obey the rulers, even if your ruler or the one who seized authority over you is a slave. In other words, if the most inferior among people became your ruler, you should not disdain to obey him, out of fear of turbulence and strife, for whoever lives from you after me will see a great discord. Then, he (may Allah's peace and blessings be upon him) clarified that the way out of this discord is by adhering firmly to his Sunnah and to the Sunnah of the rightly guided Caliphs after him, namely Abu Bakr as-Siddīq, ‘Umar ibn al-Khattāb, ‘Uthmān ibn ‘Affān, and ‘Ali ibn Abi Tālib (may Allah be pleased with them all), and by biting onto it with the molar teeth, i.e., by strictly observing and holding fast to the Sunnah. He (may Allah's peace and blessings be upon him) also warned them against the newly introduced matters in religion, as every religious innovation is a misguidance.