جامع ترمذی
Jami' at-Tirmidhi

”تم نے ایک عظیم چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے۔ لیکن یہ اس کے لیے آسان ہے، جس پر اللہ آسان فرما دے

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
66530Sahih صحیح
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْت يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الجَنَّةَ وَيُبَاعِدْنِي مِنْ النَّارِ، قَالَ: «لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيمٍ، وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ: تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ البَيْتَ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الخَيْرِ، الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ المَاءُ النَّارَ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ تَلَا: {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ} حَتَّى {بَلَغَ يَعْمَلُونَ}، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُك بِرَأْسِ الأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ، فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: رَأْسُ الأَمْرِ الإِسْلَامُ، وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ، وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الجِهَادُ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُك بِمِلَاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ، فقُلْت: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّه! فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ وَقَالَ: كُفَّ عَلَيْك هَذَا، قُلْت: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ، فَقَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى وُجُوهِهِمْ أَوْ قَالَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إلَّا حَصَائِدُ أَلسِنَتِهِمْ»!
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور کر دے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے ایک عظیم چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے۔ لیکن یہ اس کے لیے آسان ہے، جس پر اللہ آسان فرما دے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تجھے نیکی کے دروازوے نہ بتلاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اور آدمی کا رات کے درمیان میں نماز پڑھنا۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: (ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں) یہاں تک کہ آپ ”يَعْمَلُونَ“ (جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے) تک پہنچ گئے۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں دین کا سر، اس کا ستون اور اس کی بلندی نہ بتلاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول (ضرور بتلائیں)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: دین كا سر اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے، اور اس کی بلندی جہاد ہے۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں ان سب کی اصل نہ بتا دوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: اسے قابو میں رکھو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم زبان کے ذریعہ جو گفتگو کرتے ہیں، اس پر بھی ہماری پکڑ ہوگی؟ آپ ﷺ نےفرمایا: تجھے تیری ماں گم پائے، لوگوں کو (جہنم میں) ان کے چہرے کے بل -یا پھر فرمایا کہ ان کے نتھنوں کے بل- ان کی زبان کی کمائی ہی کی وجہ سے پھینکا جائے گا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Mu‘ādh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) reported: I said: O Messenger of Allah, tell me of an action that lets me enter Paradise and keep me away from Hellfire. He said: "You have asked about something grave, but it is easy for whomever Allah makes it easy for. Worship Allah, without associating anything with Him, offer the prayer, pay Zakah, fast Ramadan, and perform Hajj. Then, he said: Shall I not guide you to the gates of goodness? Fasting is a shield, charity extinguishes sins as water extinguishes fire, and a man's prayer in the middle of night. Then, he recited: {Their sides forsake their beds} until he reached {what they used to do.} Then he added: Shall I tell you of the essence of the matter, its pillar, and its peak? I replied: Yes, O Messenger of Allah. He said: The essence of this matter is Islam, its pillar is the prayer, and its peak is Jihad. Then he said: Shall I tell you of what holds all these things? I said: Yes, O Messenger of Allah. He took hold of his tongue and said: Keep this under control. I asked: O Prophet of Allah, shall we be held accountable for what we say? He replied: May your mother lose you! What else can cast people on their faces—or on their noses—except the harvest of their tongues?!"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
جامع ترمذیJami' at-Tirmidhi
Original wording: رواه الترمذي
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #66530

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : میں ایک سفر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھا۔ چلتے ہوئے ایک دن میں آپ سے قریب پہنچ گیا، تو عرض کیا : اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائيں جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور رکھے۔ آپ نے کہا : تو تم نے ایک ایسے عمل کے بارے میں پوچھا ہے، جو نفس پر شاق گزرتا ہے، لیکن اللہ کی توفیق شامل حال ہو جائے، تو آسان بھی ہے۔ اسلام کے فرائض ادا کرو :

1- تم بس ایک اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ۔

2- دن اور رات میں پانچ وقت کی فرض نمازوں کو ان کی شرطوں، ارکان اور واجبات کے ساتھ قائم کرو۔ یہ پانچ نمازیں ہیں، فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔

3- فرض زکاۃ نکالو۔ زکاۃ دراصل ایک مالی عبادت ہے، جو شرعی طور پر مقررہ مقدار تک پہنچنے والے مال پر واجب ہوتی ہے اور حق داروں کو دی جاتی ہے۔

4- ماہ رمضان کے روزے رکھو۔ روزہ نام ہے فجر طلوع ہونے سے لے کر سورج ڈوبنے تک کھانے پینے اور دیگر روزہ توڑنے والی چيزوں سے رکے رہنے کا۔

5- خانۂ کعبہ کا حج کرو۔ دراصل حج نام ہے اللہ کی عبادت کی خاطر مناسک کی ادائیگی کے ارادے سے مکہ کا رخ کرنے کا۔

پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : کیا میں تم کو خیر کے دروازوں تک پہنچانے والا راستہ نہ بتاؤں؟ وہ راستہ یہ ہے کہ فرائض کے بعد نوافل کا اہتمام کیا جائے :

1- نفلی روزہ۔ نفلی روزہ انسان کو گناہ میں ملوث ہونے سے روکتا ہے۔ کیوں کہ روزہ شہوت کو توڑتا ہے اور قوت نفسانی کو کمزور کرتا ہے۔

2- نفلی صدقہ گناہ کی آگ کو بجھا دیتا ہے اور اس کے اثر کو مٹا دیتا ہے۔

3- رات کے آخری تہائی حصے میں تہجد کی نماز پڑھنا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالی کا یہ قول پڑھا: {تتجافى جنوبهم} ان کے پہلو دور رہتے ہیں {عن المضاجع} سونے کی جگہوں سے۔ {يدعون ربهم} وہ نماز، ذکر، تلاوت اور دعا کے ذریعے اپنے رب کو پکارتے ہیں۔ {خوفا وطمعا ومما رزقناهم ينفقون، فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين} (اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دے رکھا ہے، وه خرچ کرتے ہیں۔کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔) یعنی لوگ یہ نہیں جانتے کہ ہم نے ان کے اعمال کے بدلے میں قیامت کے دن ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان بہم پہنچانے والی کیا کیا چیزیں اور جنت میں کیا کیا نعمتیں پیدا کر رکھی ہیں۔

بعد ازاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا: کیا میں تم کو دین کی بنیاد، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتا دوں؟

معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ضرور، اے اللہ کے رسول!

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: دین کی بنیاد اسلام یعنی دونوں گواہیاں (شہادتین) ہیں۔ ان کے ذریعہ انسان کے ہاتھ میں دین کی بنیاد آجاتی ہے۔ اس کا ستون نماز ہے۔ نماز کے بغیر اسلام کا وجود نہیں ہے۔ بالکل ویسے ہی، جیسے ستون کے بغیر کسی گھر کا وجود نہیں ہوتا۔ جو نماز کا پابند ہے، اس کا دین مضبوط اور بلند ہے۔ جب کہ اسلام کی سربلندی کا ذریعہ جہاد اور اللہ کے کلمے کی سربلندی کے لیے دین کے دشمنوں سے جنگ کرنا ہے۔

اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا : کیا میں تم کو ایسی چيز نہ بتاؤں، جس سے گزری ہوئی تمام چيزیں مضبوط اور پختہ ہوجاتی ہیں؟ آپ نے اپنی زبان پکڑ لی اور فرمایا : اس پر قابو رکھو اور غیر ضروری باتیں نہ بولو۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : کیا ہماری کہی ہوئی باتوں کا ہمارا رب ہم سے مؤاخذہ کرے گا، حساب لے گا اور سزا دے گا؟

آپ نے جواب دیا : تمھاری ماں تم کو گم پائے۔ یاد رہے کہ اس جملے سے مراد بد دعا نہیں ہوتی۔ عرب کے لوگ اس کا استعمال انسان کو کسی ایسی بات پر متنبہ کرنے کے لیے کرتے ہيں، جس سے اسے متنبہ ہونا چاہیے تھا۔ پھر آپ نے فرمایا: لوگوں کو ان کے منہ کے بل صرف اس لیے ہی گھسیٹا جائے گا کہ وہ اپنی زبان سے کفریہ کلمات نکالتے‘ سب وشتم‘ غیبت وچغل خوری اور بہتان تراشی وغیرہ کرتے ہیں۔

حدیث کے فوائد

  • صحابۂ کرام کا حصول علم کے تئیں اہتمام۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آپ سے بہت زیادہ سوال کیا کرتے تھے۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم کی فقہ۔ کیوں کہ ان کو پتہ تھا کہ اعمال ہی دخول جنت کا سبب ہیں۔
  • معاذ رضی اللہ عنہ نے جو سوال کیا تھا وہ بہت بڑا سوال ہے۔ کیوں کہ درحقیقت وہی حیات اور وجود کا راز ہے۔ کیوں کہ اس دنیا میں موجود ہر انسان اور جنات کا انجام یا تو جنت ہے یا پھر جہنم۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایک غیر معمولی سوال ہے۔
  • اسلام کے پانچ ارکان کی ادائیگی کا ثمرہ دخول جنت سے سرفرازی ہے۔ یہ پانچ ارکان ہیں : دونوں گواہیاں (شہادتین)، نماز، زکاۃ، روزہ اور حج۔
  • دین کی بنیاد، سب سے بیش قیمت کام اور سب سے اعلى درجے کا واجب یہ ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے۔
  • بندوں پر اللہ کی رحمت ہی کا نتیجہ ہے کہ ان کے لیے خیر کے دروازے کھول دیے، تاکہ وہ اجر و ثواب کے حصول اور گناہوں کی بخشش کے کام زیادہ سے زیادہ کریں۔
  • فرائض کی ادائیگی کے بعد نوافل کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی فضیلت۔
  • اسلام میں نماز کی وہی اہمیت ہے، جو ایک خیمے کے لیے ستون کی ہے۔ جس طرح ستون ہٹ جانے سے خیمہ گر جاتا ہے، اسی طرح نماز غائب ہو جانے سے اسلام چلا جاتا ہے۔
  • دین کو نقصان پہنچانے والی تمام چیزوں سے زبان کی حفاظت کی ضرورت۔
  • زبان کو قابو میں روک کر رکھنا ہر خیر کی بنیاد ہے۔

Explanation

Mu‘ādh (may Allah be pleased with him) said: I was on a journey in the company of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). One morning, I was close to him when we were on the move, so I said: O Messenger of Allah, inform me of a deed that admits me to Paradise and keeps me far from Hellfire. He said: You have asked me about a deed that is hard for people to perform, but it is, indeed, easy and simple for whomever Allah makes it easy. Perform the obligations of Islam.

First: Worship Allah alone and do not associate anything with Him.

Second: Establish the five obligatory prayers every day and night, namely Fajr, Zhuhr, ‘Asr, Maghrib, and ''Ishā'—along with observing their conditions, pillars, and obligatory acts.

Third: Pay the obligatory Zakah, which is an obligatory financial act of worship due on every type of property that has reached the limit prescribed by the Shariah, and it is to be given to those entitled to it.

Fourth: Fast Ramadan, which is abstaining from food, drink, and other fast invalidators as a form of worship from the break of dawn to sunset.

Fifth: Make Hajj to the House by heading for Makkah to perform the rituals as a means of worshiping Allah Almighty.

Then he (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Shall I inform you of the path leading to the gates of goodness? Follow these obligations with voluntary acts of worship.

First: Voluntary fast, which prevents from falling into sins by breaking the lust and enfeebling the power.

Second: Voluntary charity extinguishes the sin after being committed, eliminates it, and erases its traces.

Third: Tahjjud prayer during the last third of the night, then he (may Allah's peace and blessings be upon him) recited Allah's statement: {They forsake their beds}, i.e., they leave their beds {invoking their Lord} in prayer, Dhikr, recitation of the Qur’an, and supplication {with fear and hope, and spend out of what We have provided for them. No soul knows what delights are kept hidden for them}, i.e., the bliss that will provide them with ultimate comfort on the Day of Judgment and in Paradise {as a reward for what they used to do.}

Then he (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Shall I inform you of the essence of the religion, its pillar upon which it is founded, and its peak?

Mu‘ādh (may Allah be pleased with him) said: Yes, O Messenger of Allah.

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: The head of the matter is: Islam, i.e., the two testimonies of faith by which one attains the essence of the religion. Its pillar is: the prayer, since there is no Islam without prayer as there is no house without a pillar. So, whoever prays, his religion is enhanced and elevated. Its peak and climax are attained through Jihad and the exertion of effort in fighting against the enemies of the religion to make the word of Allah supreme.

Then he (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Shall I tell you what controls and perfects the aforementioned? He (may Allah's peace and blessings be upon him) took hold of his tongue and said: Control this and do not speak about what does not concern you. Mu‘ādh said: Does our Lord hold us accountable and responsible and punish us for what we speak?!

He (may Allah's peace and blessings be upon him) said: May your mother lose you! This is not meant as a supplication against him; rather, it is one of the Arabs' common expressions that is meant to draw attention to something that one is supposed to be aware of and to know. Then he said: What else can cast people and throw them on their faces in Hellfire other than the harvest of their tongues speaking words of disbelief, accusing of immorality, insult, backbiting, talebearing, false accusation, etc.?!

Topics موضوعات