Sunan al-Bayhaqi سنن بیہقی

اگر لوگوں کو ان کے دعووں کی بنیاد پر دے دیا جائے تو کچھ لوگ، لوگوں کی جان اور مال تک کا دعوی کرنے لگیں۔ لیکن،…

عَن ابنِ عباسٍ رضي الله عنهما أنَّ رسولَ اللهِ صلي الله عليه وسلم قال: «لَو يُعطَى النّاسُ بدَعواهُم لادَّعَى رِجالٌ أموالَ قَومٍ ودِماءَهُم، لَكِنَّ البَيِّنَةَ على المُدَّعِى، واليَمينَ على مَن أنكَرَ».
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "اگر لوگوں کو ان کے دعووں کی بنیاد پر دے دیا جائے تو کچھ لوگ، لوگوں کی جان اور مال تک کا دعوی کرنے لگیں۔ لیکن، دعوی کرنے والے کو دلیل پیش کرنی ہے اور انکار کرنے والے کو قسم کھانی ہے۔"
Ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Were people to be given everything they claimed, some men would claim the properties and blood of other people. However, the onus of proof is on the plaintiff, and the oath is upon the one who denies the claim (defendant)."

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن بیہقیSunan al-Bayhaqi
Original wording: اسے بیہقی وغیرہ نے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس حدیث کا کچھ حصہ صحیحین میں بھی مروی ہے۔
2Grade درجہ
Hasan حسن
Good: acceptable, slightly below Sahih
قابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہ
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #66532

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اگر لوگوں کو دلائل اور قرائن کی پڑتال کیے بغیر محض ان کے دعوے کی بنیاد پر دیا جانے لگے، تو کچھ لوگ لوگوں کے اموال اور جان تک کا دعوی کرنے لگیں۔ لہذا مدعی کو اپنے دعوے کی دلیل پیش کرنے ہوگی۔ اگر اس کے پاس دلیل نہ ہو، تو دعوے کو مدعی علیہ کے سامنے رکھا جائے گا۔ اگر اس نے انکار کر دیا، تو اسے قسم کھانی ہوگی۔ اس کے بعد وہ بری ہو جائے گا۔

حدیث کے فوائد

  • ابن دقیق العید کہتے ہيں: یہ حدیث اسلامی احکام کے ایک بنیادی اصول اور تنازع و جھگڑے کے وقت ایک عظیم ترین مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔
  • شریعت اسلامی کا ایک بنیادی مقصد جان ومال کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی راہ کو بند کرنا اور جان ومال کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
  • قاضی اپنے علم کی روشنی میں نہیں بلکہ دلائل کی روشنی میں فیصلہ کرے گا۔
  • بلا دلیل دعوی قابل قبول نہيں ہے۔ دعوی کا تعلق چاہے حقوق و معاملات سے ہو یا ایمان و علم کے مسا‏ئل سے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) pointed out that if people were to be given on the mere basis of their claims without proof or evidence, people would claim the property and blood of others. However, a plaintiff is required to produce evidence and proof for his claim. If he has no proof, the claim shall be presented to the defendant, and in case he denies it, he is required to take an oath, after which he shall be acquitted.

Topics موضوعات