”بے شک اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دی ہیں۔ پھر اس کی وضاحت فرمادی
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے بخاری اور مسلم نے صحیحین میں انہی الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #66533Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 66533)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے نیکیاں اور برائیاں مقدر کر دی اور پھر فرشتوں کو بتایا کہ ان کو کیسے لکھا جائے۔
لہذا جس نے کوئی اچھا کام کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور اسے کر نہ کر سکا، تب بھی اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ اگر اسے کر لیا، تو اس کے لیے دس سے سات سو، بلکہ اس سے بھی زیادہ نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ دراصل نیکی میں یہ اضافہ دل کے اندر موجود اخلاص اور اس کام سے دوسروں کو ہونے والے فائدے کے مطابق ہوتا ہے۔
اس کے برخلاف جس نے کوئی برا کام کرنے کا پختہ ارادہ کیا اور پھر اسے اللہ کے لیے چھوڑ دیا، اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ لیکن اگر اسے دلچسپی نہ ہو نے کی وجہ سے چھوڑا اور اس کے اسباب پر بھی ہاتھ نہ لگایا، تو کچھ نہیں لکھا جاتا۔ جب کہ اسے قدرت نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑا، تو اس کی نیت کو اس کے خلاف لکھا جاتا ہے۔ اور اگر اسے کر لیا تو اس کے کھاتے میں ایک گناہ لکھا جاتا ہے۔
حدیث کے فوائد
- اس امت پر اللہ کا فضل و کرم ہے کہ وہ اچھے کاموں کا بدلہ بڑھاکر دیتا اور اپنے پاس لکھ رکھتا ہے۔ جب کہ برے کام کا بدلہ بڑھاکر نہيں لکھتا۔
- اعمال میں نیت کی اہمیت اور اس کا اثر۔
- اللہ کا فضل، لطف اور احسان کہ وہ ایسے شخص کے کھاتے میں، جس نے کسی اچھے کام کا ارادہ کیا اور اسے انجام نہ دیا، ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔
Explanation
The Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) points out that Allah predestined the good deeds and the bad ones and then clarified to the two angels how to write them down:
If a person wants, intends, and resolves to do a good deed, it will be written for him as one good deed, even if he has not done it, and if he does it, its reward gets multiplied from ten to seven hundred times and many times over. The increase depends on the sincerity within the person's heart, how much benefit his good deed brings to others, and so on.
On the other hand, if a person wants, intends, and resolves to do a bad deed and then abandons it for Allah's sake, it will be written for him as a good deed. Yet, if he abandons it due to preoccupation with something else, while he has not engaged in the means leading to it, it will not be written as anything. But if he abandons it out of inability, his intention will be written against him. And if he does it, it will be written as one bad deed.