Hadith 66534
Sahih al-Bukhari صحیح بخاری

”جس شخص نے میرے کسی ولی (دوست) سے دشمنی کی میرا اس سے اعلانِ جنگ ہے۔ میرے نزدیک میرے فرض کردہ امور سے زیادہ…

66534Sahih صحیح
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقْد آذَنْتُهُ بِالحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وما يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنْ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے میرے کسی ولی (دوست) سے دشمنی کی میرا اس سے اعلانِ جنگ ہے۔ میرے نزدیک میرے فرض کردہ امور سے زیادہ محبوب کوئی اور چیز نہیں ہے جس کے ذریعے میرا بندہ میرا قرب حاصل کرے۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا جاتا ہے، یہاں تک میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے ضرور پناہ دیتا ہوں۔“
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah Almighty says: I will declare war against one who shows hostility to a close ally of Mine. And the most beloved thing with which My slave comes nearer to Me is what I have enjoined upon him; and My slave keeps on coming closer to Me through performing supererogatory acts of worship till I love him. When I love him, I become his hearing with which he hears, his sight with which he sees, his hand with which he seizes, and his leg with which he walks; and if he asks (something) from Me, I will surely give it to him, and if he asks My Protection (refuge), I will surely protect him."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: رواه البخاري
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #66534

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی ﷺ نے اس حدیث قدسی میں بتایا کہ اللہ عز و جل نے فرمایا: جس نے میرے اولیا میں سے کسی ولی کو اذیت دی، ناراض کیا اور اس سے بغض رکھا، اس کے خلاف میری جانب سے اعلان عداوت ہے۔ ولی سے مراد تقوی شعار مومن ہے۔ جس کے دامن میں ایمان اور تقوی کا جس قدر حصہ ہوگا، اسے اللہ کی ولایت کا اتنا ہی حصہ نصیب ہوگا۔ مسلمان اللہ کا تقرب جن چيزوں سے حاصل کرتا ہے، اللہ کے نزدیک ان میں سے سب سے محبوب چیزیں وہ ہیں، جو اللہ نے اس پر فرض کی ہیں۔ اس میں اطاعتوں پر عمل آوری اور محرمات سے اجتناب دونوں داخل ہيں۔ مسلمان فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کرتا جاتا ہے اور ایک وقت آتا ہے جب اسے اللہ کی محبت حاصل ہو جاتی ہے۔ جب اللہ اس سے محبت کرتا ہے تو اس کے درج ذیل چار اعضا کا صحیح رخ متعین کر دیتا ہے: اس کے کان کے عمل کا صحیح رخ متعین کر دیتا ہے۔ لہذا وہ وہی سنتا ہے، جو اللہ کو پسند ہو۔ اس کی نگاہ کے عمل کا صحیح رخ متعین کر دیتا ہے۔ وہ وہی دیکھتا ہے، جسے دیکھنا اللہ کو پسند ہو۔ اس کے ہاتھ کے عمل کا صحیح رخ متعین کر دیتا ہے۔ وہ اپنے ہاتھ سے وہی کام کرتا ہے، جو اللہ کو پسند ہو۔ اس کے پیر کے عمل کا صحیح رخ متعین کر دیتا ہے۔ وہ اسی سمت میں چلتا ہے، جس سمت میں چلنا اللہ کو پسند ہو اور وہی کام کرتا ہے، جس میں خیر ہو۔ ساتھ ہی اگر وہ اللہ کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہے، تو اللہ اس کی جھولی بھر دیتا ہے۔ اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اگر اللہ کی پناہ طلب کرتا ہے، تو اللہ اسے اپنی پناہ میں لے لیتا ہے اور ہر خوف سے نجات عطا کرتا ہے۔

حدیث کے فوائد

  • یہ حدیث ان حدیثوں میں سے ایک ہے، جنہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پاک رب سے روایت کیا ہے۔ اس طرح کی حدیث کو حدیث قدسی یا حدیث الہی کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد وہ حدیث ہے، جس کے لفظ اور معنی دونوں اللہ کے ہوں۔ البتہ اس کے اندر قرآن کی خصوصیات، جیسے اس کی تلاوت کا عبادت ہونا، اس کے لیے طہارت حاصل کرن، اس کا معجزہ ہونا اور اس کے ساتھ چیلینج دیا جانا، وغیرہ، نہیں پائی جاتیں۔
  • اللہ کے ولیوں کو اذیت دینے کی ممانعت، ان سے محبت رکھنے کی ترغیب اور ان کے فضل و شرف کا اعتراف۔
  • اللہ کے دشمنوں سے دشمنی رکھنے کا حکم اور ان سے دوستی رکھنے کی حرمت۔
  • جس نے اللہ کی شریعت کا اتباع کیے بغیر اس کے ولی ہونے کا دعوی کیا، وہ اپنے دعوی میں جھوٹا ہے۔
  • اللہ کی ولایت، واجبات پر عمل آوری اور محرمات سے گریز کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
  • بندے کے لیے اللہ سے محبت اور اس کی دعا کی قبولیت کا ایک سبب یہ ہے کہ واجبات کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب کے بعد نوافل پر کاربند رہا جائے۔
  • اولیا کے فضل و شرف اور رفعت شان کا بیان۔

Explanation

The Prophet (ﷺ) informed, in the Divine Hadīth, that Allah Almighty said: Whoever harms a close ally of Mine, angers him, or shows him enmity, I have declared war against him and announced My hostility toward him. "Waliyy" is: the pious believer. The servant's share of Allah's closeness is in proportion to his level of faith and piety. A Muslim does not draw nearer to his Lord with anything more beloved to Him than what He has made obligatory upon him—performing the acts of obedience and avoiding the prohibitions. Then the Muslim continues to draw closer to his Lord with voluntary deeds alongside the obligatory ones until he attains Allah's love. When Allah loves him, Allah grants him guidance and success in these four faculties: He rightly guides him in his hearing; thus, he hears nothing but what pleases Allah. He rightly guides his sight; thus, he looks at nothing except what Allah loves to look at and what pleases Him. He rightly guides his hands; thus, he does nothing with his hand except what pleases Allah. He rightly guides his feet; thus, he walks to nothing except what pleases Allah and pursues only what is good. Along with all this, if he asks Allah for something, He grants him his request, and his supplication will be answered; and if he seeks refuge with Allah and resorts to Him seeking protection, Allah Almighty will grant him refuge and protection against what he fears.

Topics موضوعات