ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
وَخَرَّجَهُ مُسْلِمٌ وَلَفْظُهُ: قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اَلله أَنَا وَمُعَاذٌ إِلَى اَليَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولُ اَللَّهِ! إِنَّ شَرَابًا يُصْنَعُ بِأَرْضِنَا يُقَال لَهُ: المِزَرُ مِنَ الشَّعِيرِ، وَشَرَابٌ يُقَالُ لَهُ: البِتْعُ مِنَ العَسَلِ، فَقَالَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ».
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «فَقَالَ: كُلُّ مَا أَسْكَرَ عَنِ الصَّلَاةِ فَهُوَ حَرَامٌ».
وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: «وَكَانَ رَسُولُ الله قَدْ أُعْطِيَ جَوَامِعَ الكَلِمِ بِخَوَاتِمِهِ، فَقَالَ: أَنْهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ أَسْكَرَ عَنْ الصَّلَاةِ».
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #66536Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 66536)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ان کو یمن بھیجا۔ چناں چہ انھوں نے وہاں بننے والی کچھ مشروبات کے بارے میں پوچھا کہ وہ حلال ہیں یا حرام، تو آپ نے ان کے بارے میں استفسار کیا۔ چنانچہ ابو موسی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ان مشروبات یعنی بِتع سے مراد شہد سے بنی ہوئی نبیذ ہے اور مِزر سے مراد جَو سے بنی ہوئی نبیذ ہے۔ لہذا اللہ کے رسول ﷺ نے، جنھیں جامع ترین الفاظ میں بات رکھنے کی صلاحیت دی گئی تھی، فرمایا: "ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔"
حدیث کے فوائد
- نبیذ: وہ پانی جس میں کھجور، شہد یا جَو وغیرہ ڈالا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے اندر ان چيزوں کا ذائقہ اور مٹھاس آ جاتا ہے۔ کبھی کبھی خمیر ہو کر اس میں نشہ بھی آ جاتا ہے۔
- یہ حدیث تمام طرح کی نشہ آور اشیا کے حرام ہونے کے سلسلے میں ایک اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
- ضروری مسائل کے بارے میں پوچھنے کی اہمیت۔
- شراب سب سے پہلے نماز میں حاضر ہوتے وقت حرام قرار دی گئی، جب کچھ مہاجروں نے نماز پڑھی اور قرآن پڑھنے میں غلطیاں کر ڈالیں تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: (اے ایمان والو! جب تم نشے میں ہو تو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ، جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو اور جنابت کی حالت میں جب تک کہ غسل نہ کر لو، ہاں اگر راہ چلتے گزر جانے والے ہو تو اور بات ہے۔) اس وقت اللہ کے رسول ﷺ کا منادی یہ اعلان کرتا تھا: کوئی نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے نہ آئے۔ بعد ازاں اللہ نے شراب کو مطلقا حرام قرار دیتے ہوئے فرمایا: (اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر، یہ سب گندی باتیں، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو۔ شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کرا دے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے سو اب بھی باز آجاؤ۔)
- اللہ تعالی نے شراب کو اس لیے حرام قرار دیا کیوں کہ اس میں بڑے بڑے نقصانات اور مفاسد مضمر ہیں۔
- شراب کو حرام قرار دینے کی وجہ اس کے نشہ آور ہونے کا وصف ہے۔ لہذا نبیذ کے اندر نشہ آور ہونے کا وصف آجائے، تو حرام ہو جاتی ہے اور یہ وصف نہ ہو، تو حلال رہتی ہے۔
Explanation
Abu Mūsa al-Ash‘ari (may Allah be pleased with him) informs that the Prophet (ﷺ) sent him to Yemen. He asked him about certain drinks made there—if they were forbidden—so the Prophet (ﷺ) inquired further about them. Abu Mūsa (may Allah be pleased with him) said: They are Al-Bit‘, which is an alcoholic drink made from honey, and Al-Mizr, which is an alcoholic drink made from barley. The Prophet (ﷺ), who had been given concise speech, said: "Every intoxicant is prohibited."