چار خصلتیں جس شخص کے اندر ہوں گی، وہ خالص منافق ہوگا۔ جس کے اندر ان میں سے ایک خصلت ہوگی، اس کے اندر نفاق کی…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #66537Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 66537)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے چار خصلتوں سے خبردار کیا ہے کہ جب کسی مسلمان کے اندر جمع ہو جائيں، تو وہ ان خصلتوں کی بنا پر منافقوں کے بے حد مشابہ ہو جاتا ہے۔ دراصل یہاں بات اس شخص کی ہو رہی ہے، جس کی شخصیت پر یہ اوصاف حاوی ہو جائيں۔ اگر کسی کے اندر یہ اوصاف کبھی کبھار دکھیں، تو وہ اس میں داخل نہیں ہوگا۔ یہ چار خصائل ہيں :
1- جب بات کرے تو جان بوجھ کر جھوٹ بولے اور سچ بولنے سے گریز کرے۔
2- جب کوئی معاہدہ کرے، تو اسے پورا نہ کرے اور سامنے والے کے ساتھ دھوکہ کر ڈالے۔
3- جب کوئی وعدہ کرے، تو اسے نہ نبھائے۔ توڑ ڈالے۔
4- جب کسی کے ساتھ جھگڑا کرے، تو بڑے سخت انداز میں جھگڑا کرے۔ حق سے گریز کر جائے، حق کی تردید اور اسے باطل ثابت کرنے کے لیے بہانے تلاش کرنے لگے اور ناحق بات اور جھوٹ بکے۔
کیوں کہ نفاق نام ہے دل ميں کچھ اور رکھنے اور ظاہر کچھ اور کرنے کا۔ اور یہ معنی ان خصائل کے حامل شخص کے اندر پایا جا رہا ہے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ ان خصائل کے حامل شخص کا نفاق دراصل اس شخص کے حق میں ہوگا، جس نے اس سے بات کی ہے، عہد کیا ہے، اس کے پاس امانت رکھی ہے اور جھگڑا کیا ہے۔ مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اسلام کے سلسلے میں منافق ہے۔ مسلمان ہونے کا دکھاوا کرتا ہے اور اندر کفر چھپائے رکھتا ہے۔ جس کے اندر ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی، اس کے اندر نفاق کی ایک صفت ہوگی۔ جب تک کہ اسے چھوڑ نہ دے۔
حدیث کے فوائد
- نفاق کی کچھ علامتوں کا بیان، تاکہ ان میں واقع ہونے سے خوف دلا کر خبردار کیا جا سکے۔
- حدیث کا مقصود یہ ہے کہ یہ خصائل نفاق کے خصائل ہيں اور ان کا حامل شخص ان خصائل میں منافقوں کے مشابہ اور ان کے اخلاق کا حامل ہے۔ مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ایسا منافق ہے، جو مسلمان ہونے کا دکھاوا کرتا ہو اور دل میں کفر چھپائے رکھتا ہو۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ حدیث اس شخص پر محمول ہے، جس پر یہ خصائل حاوی ہو جائيں اور وہ ان خصلتوں کو معمولی سمجھنے لگے۔ کیوں کہ اس طرح کا شخص عام طور پر بدعقیدہ بھی ہوا کرتا ہے۔
- غزالی کہتے ہیں: دراصل دین داری کا انحصار تین چیزوں پر ہے: قول، فعل اور نیت۔ یہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے قول میں بگاڑ کا اشارہ جھوٹ کے ذریعے، فعل میں بگاڑ کا اشارہ خیانت کے ذریعے اور نیت میں بگاڑ کا اشارہ وعدہ خلافی کے ذریعے فرمایا۔ کیوں کہ وعدہ خلافی اسی وقت معیوب ہے، جب وعدہ کرتے وقت ہی وعدہ پورا نہ کرنے کی نیت کر لی جائے۔ اس کے برخلاف اگر کسی نے وعدہ پورا کرنے کی نیت رکھی، لیکن کوئی رکاوٹ حائل ہو گئی اور وعدہ پورا نہیں کر سکا، تو اس کا یہ عمل نفاق کے دائرے میں نہيں آئے گا۔
- نفاق کی دو قسمیں ہیں : ایک اعتقادی نفاق، جو انسان کو ایمان کے دائرے سے باہر نکال دیتا ہے۔ اعتقادی نفاق نام ہے اسلام کا اظہار کرنے اور اندر کفر چھپائے رکھنے کا۔ دوسرا عملی نفاق، جو انسان کو ایمان کے دائرے سے باہر تو نہیں نکالتا، لیکن ہے کبیرہ گناہ۔
- ابن حجر کہتے ہیں: علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو شخص اپنے دل اور زبان سے تصدیق کرے اور اس کے باوجود یہ کام کرے، تو اس پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔ اسے ایسا منافق بھی نہيں گردانا جائے گا، جس کا ٹھکانہ سدا کے لیے جہنم ہو۔
- نووی کہتے ہیں: علما کی ایک جماعت کہتی ہے: اس سے مراد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد کے منافق ہيں، جنھوں نے مومن ہونے کی بات کہہ کر جھوٹ بولا، دین کی امانت اٹھائی اور خیانت کی، دین پر قائم رہنے اور اس کی مدد کرنے کا وعدہ کر کے اسے توڑ ڈالا اور اپنے جھگڑوں میں بد زبانی کا مظاہرہ کیا۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) warned of four traits; if they are combined in a Muslim, he becomes quite similar to the hypocrites due to them. This applies to a person in whom these traits are dominant, not someone who rarely exhibits any of them. They are:
First: When he speaks, he intentionally lies and avoids truthfulness.
Second: When he makes a covenant, he does not fulfill it and proves treacherous to the other party.
Third: When he makes a promise, he does not keep it; rather, he breaks it.
Fourth: When he quarrels and falls into dispute with someone, he acts severely, departs from the truth, turns to deception in his response and argument, and tells falsehood and lies.
Hypocrisy is to reveal something different from what is kept hidden. This exists in a person who possesses these traits. His hypocrisy is exercised toward those to whom he speaks or makes a promise or those who entrust him, quarrel with him, or engage in a covenant with him. It is not that he is a hypocrite in terms of Islam, revealing it and concealing Kufr. Whoever possesses one of these traits possesses a trait of hypocrisy until he gives it up.