صحیح مسلم · مسند احمد · سنن دارمی
Sahih Muslim · Musnad Ahmad · Sunan ad-Darimi

”نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹکے اور اس پر لوگوں کا مطلع ہونا تمھیں ناگوار ہو

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
66540Sahih صحیح
عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «البِرُّ: حُسْنُ الخُلُقِ، وَالإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ، وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ».
وَعَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ البِرِّ وَالإِثْمِ»، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «اسْتَفْتِ قَلْبَكَ، البِرُّ: مَا اطْمَأَنَّتْ إلَيْهِ النَّفْسُ، وَاطْمَأَنَّ إلَيْهِ القَلْبُ، وَالإِثْمُ: مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ، وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ».
نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹکے اور اس پر لوگوں کا مطلع ہونا تمھیں ناگوار ہو۔“ وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: ’’تم نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھنے آئے ہو؟‘‘ میں نے کہا : جی ہاں۔ چناں چہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اپنے دل سے پوچھ لو۔ نیکی وہ ہے جس پر نفس مطمئن ہو اور دل میں کوئی کھٹک نہ ہو۔ اور گناہ وہ ہے جو نفس میں کھٹکے اور دل میں اس کی بابت تردد ہو، اگرچہ لوگ تجھے (اس کے جواز کا) فتوی دے دیں اور تجھے جائز بتاتے رہیں۔‘‘
— HadeethEnc اردو ترجمہ
An-Nawwās ibn Sim‘ān (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) said: "Righteousness is good character, and sin is what wavers in your heart, and you dislike that people know about it." Wābisah ibn Ma‘bad (may Allah be pleased with him) reported: I went to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: "You have come to inquire about righteousness and sin." I said: Yes. He said: "Ask your heart. Righteousness is that which the soul feels at ease with and the heart feels tranquil about. And sin is that which wavers in your soul and causes uneasiness in your chest, even if people give you legal opinions and give you more opinions (in its favor)."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslimمسند احمدMusnad Ahmadسنن دارمیSunan ad-Darimi
Original wording: پہلی حدیث کو مسلم نے اور دوسری حدیث کو احمد اور دارمی نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #66540

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی ﷺ نے نیکی اور گناہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے فرمایا کہ سب سے بڑی نیکی حسن اخلاق ہے۔ اللہ کے ساتھ حسن اخلاق یہ ہے کہ تقوی اختیار کیا جائے اور مخلوق کے ساتھ حسن اخلاق یہ ہے کہ ان کی اذیتوں کو برداشت کیا جائے، غصہ کم کیا جائے، ہنس کر ملا جائے، اچھی بات کی جائے، صلہ رحمی کی جائے، بات مانی جائے، لطف آمیز برتاؤ کیا جائے، حسن سلوک کے ساتھ زندگی گزاری جائے اور اچھی صحبت رکھی جائے۔ نیکی وہ ہے، جس سے دل اور نفس مطمئن ہو۔ جب کہ گناہ ایسی مشتبہ چيز ہے، جو دل میں کھٹکے، اس سے دل مطمئن نہ ہو، بار بار یہ شک اور اندیشہ دل میں آتا رہے کہ کہیں یہ گناہ تو نہیں ہے اور آپ اسے اچھے، نیک اور کامل لوگوں کے سامنے ظاہر نہ کرنا چاہیں۔ کیوں کہ فطری طور پر انسان کا نفس یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کی اچھی باتوں کو ہی جانیں۔ لہذا اگر آپ کسی بات سے لوگوں کی آگاہی کو ناپسند کر رہے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گناہ ہے اور اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔ لوگ جواز کا فتوی دے بھی دیں، تو ان کے فتوے کو قبول مت کرو، جب تک تمھارے دل میں شک و شبہ آتا رہے۔ کیوں کہ فتوے سے شبہ دور نہيں ہوتا، جب تک شبہ صحیح ہو اور فتوی دینے والا بلا علم فتوی دیتا ہو۔ لیکن اگر فتوی شرعی دلیل پر مبنی ہو، تو فتوی پوچھنے والے پر اسے ماننا ضروری ہوگا، خواہ اس کی طبیعت مطمئن ہو یا نہ ہو۔

حدیث کے فوائد

  • اعلی اخلاق سے آراستہ ہونے کی ترغیب، کیوں کہ حسن خلق کا شمار نیکی کے بڑے کاموں میں ہوتا ہے۔
  • ایک مومن کو حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے میں دقت نہيں ہوتی۔ کیوں کہ وہ اپنے دل میں موجود نور کی وجہ سے حق کو پہچان لیتا ہے اور باطل سے گھٹن محسوس کرتا اور اس کی نکیر کرتا ہے۔
  • گناہ کی ایک علامت یہ ہے کہ دل اس سے بے چین و پریشان رہے اور دل کو یہ گوارہ نہ ہو کہ لوگ اسے جان جائيں۔
  • سندھی کہتے ہیں : یہ بات ان مشتبہ امور کے بارے میں کہی گئی ہے، جن کے بارے میں لوگوں کو پتہ نہيں ہوتا کہ وہ نیکی ہیں یا گناہ۔ ورنہ شریعت میں جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے، وہ نیکی کے کام ہیں اور جن باتوں سے روکا گيا ہے، وہ گناہ کے کام ہيں۔ ان دونوں طرح کے کاموں میں دل سے فتوی پوچھنے اور اس کا اطمینان جاننے کی ضرورت نہیں ہے۔
  • اس حدیث میں مخاطب فطرت سلیمہ رکھنے والے لوگ ہيں۔ ایسے الٹے دل والے لوگ نہيں، جو بھلے برے کے اندر فرق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور خواہشات نفسانی کی پیروی کرتے ہيں۔
  • طیبی کہتے ہيں: کسی نے کہا ہے : اس حدیث میں آئے لفظ 'البر' (نیکی) کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہيں۔ کہیں اس کے معنی ایسے کام کے بیان کیے گئے ہيں، جس سے نفس اور دل مطمئن ہو۔ کہیں ایمان کے بتائے گئے ہیں۔ کہيں ایسے عمل کے بتائے گئے ہیں جو آپ کو اللہ کے قریب کر دے۔ جب کہ یہاں حسن اخلاق کے بتائے گئے ہیں اور حسن اخلاق کی تفسیر اذیت کے وقت تحمل و بردباری کا مظاہرہ کرنے، غصہ کم کرنے، ہنس کر ملنے اور خوش کلامی سے کی گئی ہے۔ ویسے یہ سارے معانی ایک دوسرے سے قریب ہی ہيں۔

Explanation

The Prophet (ﷺ) informed about righteousness and sin. He said: The most excellent among the traits of righteousness is good morals with Allah by piety and with people by enduring their harm, refraining from anger, having a cheerful face, speaking good words, upholding good ties and companionship, and being obedient and amiable. Righteousness is what the heart and soul feel at peace with. As for sin, it is whatever stirs uneasiness in the soul from suspicious matters, causing hesitation without the chest opening up to it, and what brings about doubt in the heart and fear that it may be a sin. It is also what you would not want to disclose, since it is ugly in the eyes of dignified and upright people. This is because the soul, by nature, loves for people to know of its good deeds; so if it dislikes people's knowing about some of its actions, then it is a sin and contains no good—even if people give you legal opinions regarding it. Do not rely on their fatwa so long as the sign of doubt lingers within you, for a fatwa does not remove true doubt if the mufti gives a ruling without knowledge. However, if the fatwa is based on sound evidence from the Shariah, then the questioner must follow it, even if his heart does not feel completely at ease with it.

Topics موضوعات