تمھاری زبان ہر وقت اللہ عز و جل کے ذکر سے تر رہے
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
وفي رواية: مِنْ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: آخِرُ مَا فَارَقْتُ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قُلْتُ: أَيُّ الأَعْمَالِ خَيْرٌ وَأَقْرَبُ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: «أَنْ تَمُوتَ وَلِسَانُكَ رَطْبٌ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ».
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- جامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad Ahmadصحیح ابن حبانSahih Ibn HibbanOriginal wording: اسے احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #66541Jami' at-Tirmidhi & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad & Sahih Ibn Hibban (HadeethEnc 66541)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حضور شکایت کی کہ اسے نفل عبادتیں اتنی زیادہ لگتی ہیں کہ اپنے ضعف کی وجہ سے انھیں انجام دے نہيں سکتا۔ پھر گزارش کی کہ آپ اسے کوئی چھوٹا سا عمل بتا دیں، جس سے بہت سارے ثواب حاصل ہو جائيں اور جسے وہ مضبوطی سے پکڑے رہیں۔
لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی رہ نمائی اس جانب کی کہ ہمیشہ اس کی زبان اللہ کے ذکر سے تر اور ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کے ذکر میں مشغول رہے۔ ذکر میں سبحان اللہ، الحمد للہ، استغفر اللہ اور دعا وغیرہ شامل ہيں۔
حدیث کے فوائد
- اللہ کے ذکر پر مداومت برتنے کی فضیلت۔
- اللہ کا ایک بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے خیر کے اسباب آسان فرما دیے ہیں۔
- خیر و بھلائی اور نیکی کے کاموں میں بندے ایک دوسرے سے الگ الگ درجات کے حامل ہوا کرتے ہيں۔
- کثرت سے اور حضور قلب کے ساتھ سبحان اللہ، الحمد للہ، لاالہ الا اللہ اور اللہ اکبر وغیرہ کہنا بہت سی نفلی عبادتوں کے برابر ہے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سوال کرنے والوں کا خیال کرتے ہوئے ہر سائل کو وہی جواب دیتے، جو اس کے لیے مناسب ہو۔
Explanation
A man complained to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) that the supererogatory acts of worship had become too much for him and that he could not perform them given his weakness. He, then, asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) to guide him to an easy deed that would bring abundant rewards so he could adhere and hold on to it.
He (may Allah's peace and blessings be upon him) advised him to keep his tongue moist and moving by remembering Allah Almighty recurrently at all times and in all states by glorifying and praising Him, seeking forgiveness from Him, supplicating Him, etc.