اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کا حق دے دیا ہے، کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- جامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8370Jami' at-Tirmidhi & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad (HadeethEnc 8370)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ اس بات کا ذکر کر رہے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے قریب موجود تھے، آپ علیہ الصلاۃ والسلام ،اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے اور اس اونٹنی کا لعاب بہتے ہوئے عمرو کے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے اس خطبے میں کچھ احکام کی وضاحت فرمائی،جن میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے اور اس کے حق میں پہنچنے والے فرض کردہ حصے اور متعین مقدار کو واضح کردیاہے؛ لہٰذا وارث کے لیے وصیت کرنے کا اب کوئی جواز باقی نہ رہا۔ پھر آپ ﷺ نے یہ بیان کیا کہ بدکاری کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ بستر والے کا ہوگا؛ لہٰذا اس بچے کی نسبت بستر والے کے علاوہ کسی اور کی طرف نہیں کی جائے گی، چاہے وہ صاحب فراش شوہر ہو یا مالک۔ زانی کو بچے کی نسبت اپنی طرف کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اس کی بدکاری کے نتیجے میں اس کے حق میں رسوائی و نامرادی ہے اور اس پر حد جاری کیے جانے کا حکم ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس بات کی حرمت بیان فرمائی کہ کوئی انسان خود کو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے یا غلام اپنی نسبت، اس کو آزاد کرنے والے مالکان کے علاوہ کسی اور کی جانب کرے۔ آپ ﷺ نے واضح فرمادیا کہ غیر باپ کی طرف انتساب کرنا جب کہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں، یا غلام کا اسے آزاد کرنے والوں کے سوا کسی اور کی جانب منسوب ہونا، اللہ تعالیٰ کی لعنت کا موجب ہے۔ اللہ جل و علا کی ذات ایسے شخص کی کوئی فرض اور نفل نیکی نہیں قبول فرمائے گی۔
Explanation
‘Amr ibn Khārijah (may Allah be pleased with him) reported that he was close to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) as he delivered a sermon from above his she-camel, whose saliva was dripping down upon ‘Amr's shoulders. He went on to relate that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) demonstrated a number of rulings in his sermon, as follows: 1. Allah, the Almighty, has allocated to each person his due right and designated share, and therefore it is not permissible to include an heir in the will. 2. The newborn belongs to the bed, i.e. the woman’s husband or master. The adulterer has no claim to the child; rather, he only deserves disappointment and the due punishment for his crime. 3. It is prohibited for a person to be attributed to other than his father or a slave to other than his masters who set him free. The Hadīth makes it clear that whoever does so shall be subject to the curse of Allah, the Almighty, and that Allah shall not accept any act of worship from him, be it obligatory or supererogatory.