لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن نسائیSunan an-Nasa'iسنن ابن ماجہSunan Ibn MajahOriginal wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8371Sunan Abi Dawud & Sunan an-Nasa'i & Sunan Ibn Majah (HadeethEnc 8371)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ابو سمح رضی اللہ عنہ اس حدیث میں اس بات کا تذکرہ کر رہے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں رہا کرتے تھے اور جب کبھی آپ ﷺ غسل کا ارادہ فرماتے، تو ابو سمح کو ہدایت دیتے کہ وہ اپنی پیٹھ آپ ﷺ کی جانب کر کے کھڑے ہوجائیں اور ابو سمح اپنے جسم کے ذریعے نبی ﷺ کو یوں آڑ میں لے کر کھڑے ہوجاتے کہ ان کی پشت نبی ﷺ سے قریب ہوتی۔ اس طرح آپ ﷺ کا لوگوں سے اور خود سے ستر فرماتے۔ انھوں نے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے، جو ان کی موجودگی میں نبی ﷺ کے ساتھ پیش آیا کہ آپ کی خدمت میں حسن یا حسین رضی اللہ عنھما کو لایا گیا اور انھوں نے آپ کے سینے کی جگہ کے کپڑے پر پیشاب کردیا۔ لیکن جب ابو سمح رضی اللہ عنہ نے اس کو دھونا چاہا، تو آپ ﷺ نے ان سے اس مسئلے کی بابت وضاحت فرمائی کہ تاحال کھانا کھانا شروع نہ کرنے والے دودھ پیتے بچے کے پیشاب کی پاکی کے لیے (اگر وہ کپڑوں کو لگ جائے) بس اتنا کافی ہے کہ جہاں پیشاب لگا ہو ،اس پر پانی کا چھڑکاؤ کردیا جائے، اسے دھونا واجب نہیں۔ اس کے برعکس لڑکی کے پیشاب کو کپڑوں سے دھونا واجب ہے؛ چاہے وہ دودھ پیتی ہی کیوں نہ ہو۔
لڑکا اور لڑکی کے مابین کیے گئے فرق کی وجوہات کے تئیں اہل علم کا کہنہا ہے کہ نرینہ اولاد کو مرد اور خواتین بکثرت اٹھائے پھرتے ہیں، جس کی بنا پر اس کے پیشاب کی وجہ سے ہونے والی مشقت بہت عام ہوتی ہے اور اس طرح اسے دھونا دشواری کا باعث ہے۔ اس کے برعکس لڑکی کے پیشاب کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ اسی طرح لڑکے کے پیشاب کے بالمقابل، لڑکی کے پیشاب میں گندگی اور بدبو کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے؛ کیوں کہ بچے کے پیشاب میں حرارت اور لڑکی کے پیشاب میں نمی زیادہ ہوتی ہے۔ لہٰذا حرارت، پیشاب کی بدبو کے اثرات کی شدت کو گھٹا دیتی ہے اور پیشاب سے اس چیز کو تحلیل کردیتی ہے، جو رطوبت کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔
لڑکا اور لڑکی کے پیشاب میں جو فرق ہے اس کے متعلق یہ کچھ حکمتیں ہیں جنہیں علماء کرام نے بیان کی ہیں، اگر یہ صحیح ہیں تو بہت ہی معقول حکمتیں ہیں اس لیے کہ فرق بلکل واضح ہے، اور اگر یہ حکمتیں صحیح نہیں ہیں تو اس حکم میں اصل حکمت تو ہے ہی، یعنی کہ یہ اللہ تعالی کا حُکم ہے، اور ہم یہ یقینی طور پر جانتے ہیں کہ اللہ تعالی کی شریعت ہی عین حکمت ہے، یقینا شریعت بظاہر ایک جیسی دو چیزوں کے درمیان فرق نہیں کرتی مگر یہ کہ حقیقی معنوں میں ان میں فرق موجود ہو، اسی طرح شریعت کسی دو چیزوں کو جمع نہیں کرتی مگر یہ کہ ان کو جمع کرنا ہی حکمت کا عین تقاضہ ہو۔ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالی کے احکام مصلحت کے عین موافق ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ یہ مصلحتیں کبھی ظاہر ہو جاتی ہیں تو کبھی مخفی رہتی ہیں۔
Explanation
Abu As-Samh (may Allah be pleased with him) mentioned that he used to serve the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and that whenever he wanted to take a bath, he would ask Abu As-Samh to turn his back. So he would turn his back towards the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) screening him with his body so that neither him nor others could see the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him).
Then he mentioned an incident that took place while he was with the Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him). Abu As-Samh brought Al-Hasan or Al-Husayn to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and the boy (who was still infant) urinated on his chest. When Abu As-Samh wanted to wash it, the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) explained to him that splashing water over the urine of the baby boy (male infant) who is not yet eating food is sufficient to purify it, but the urine of a girl must be washed even if she is still infant.
The scholars have mentioned some reasons for this difference between the urine of the boy and that of the girl, including the following:
1. Usually, the male baby is carried a lot by both men and women, so washing his urine would be too difficult, so this concession was made.
2. Unlike the urine of the girl, the urine of a boy spatters over here and there, so it is extremely difficult to thoroughly wash it.
3. The urine of the female is more putrid than the urine of the nursing boy. The reason for that is that the temperature of the urine from the male is hotter, with less stench. High temperature makes the smell of urine mild and removes what might happen with humidity.