تم لوگوں کو کیا ہوا ہے جو راستے میں مجلسیں جمائے بیٹھے رہتے ہو؟ راستوں میں مجلسیں جمانے سے بچو ۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8896Sahih Muslim (HadeethEnc 8896)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ وہ گھر کے صحن میں بیٹھے تھے۔ فِنَاء گھر کے قریب کھلی جگہ کو کہتے ہیں، اس میں بیٹھ کر اپنے معاملات کے بارے میں باتیں کررہے تھے، آپ ﷺ تشریف لائے اور ہمارے پاس کھڑے ہوئے اور ہمیں راستوں میں بیٹھنے سے منع فرمایا۔
صحابہ کرام نے عرض کیا ”إنما قَعَدْنَا لغير ما بأس، قَعَدْنَا نتذَاكَر، ونتحدث“ یعنی اے اللہ کے رسول ﷺ ہم یہاں کسی غیر شرعی کام کے لیے نہیں بیٹھے، بلکہ جائز کام کے لیے بیٹھے ہیں، یہاں بیٹھ کر ہم بات چیت کرتے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا ”إما لا فأدُّوا حقَها“ یعنی اگر تم ان مجلسوں کو چھوڑ نہیں سکتے تو ان کا حق ادا کرتے رہو۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں ”إنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِس فَأَعْطُوا الطَّريقَ حَقَّهُ“ اور ایک اور روایت کے الفاظ ہیں ”سَألُوهُ وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ؟“ یعنی صحابہ نے پوچھا کہ راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نظریں جُھکانا، سلام کا جواب دینا اور اچھی بات کرنا۔ دوسری روایت میں ہے: نظریں جُھکانا، تکلیف نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم کرنا اور بُرائی سے روکنا۔ مطلب یہ کہ اگر تمہیں لامحالہ راستوں میں بیٹھنا ہی ہے تو پھر راستے کا حق ادا کرنا تمہارے اوپر لازم ہے۔
آپ ﷺ نے ان کے سامنے راستوں میں بیٹھنے سے ممانعت کا سبب بتلایا کہ راستوں میں بیٹھنے سے بسا اوقات انسان کو فتنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے عورتوں کا سامنے آنا اور انہیں دیکھنے کا خوف اور اس کی وجہ سے فتنے میں پڑنا، اسی طرح اللہ اور مسلمانوں کے ایسے حقوق کا پیش ہونا جن کی ادائیگی گھر میں ہونے کی صورت میں لازم نہیں آتی، کیونکہ وہ اکیلا ہوتا ہے یا اپنی ضروری کاموں میں مشغول ہوتا ہے، ان کُھلے راستوں میں بُرائیوں پر بھی نظر پڑے گی، اس وقت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ اگر اسے چھوڑے گا تو اللہ کی نافرمانی لازم آئے گی۔
اسی طرح گزرنے والے کو سلام کرنا بھی لازم آئے گا، بسا اوقات لوگوں کی کثرت کی وجہ سے بیٹھنے والا سلام کرنے اور اس کا جواب دینے سے عاجز ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوگا اور انسان کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ فتنوں سے بچے اور ان میں پڑنے سے اپنے آپ کو بچائے، اس لئے کہ اپنے نفس پر ان چیزوں کو لازم نہ کرے جن کا حق ادا کرنا اس کے لیے ممکن نہیں۔
Explanation
Abu Talhah (may Allah be pleased with him) says that the Companions were sitting in the house yards discussing their affairs. The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) stopped by and forbade them to sit in pathways. They said that they had no intention for doing harm, and just sat to discuss their own affairs, without violating Islamic principles. Therefore, he guided them, should they insist, to fulfill the rights of the road. They asked him, as we know from another narration, what the rights of the road were. He mentioned three rights: lowering the gaze, returning the greeting, and speaking fairly. According to another narration: Lowering the gaze, refraining from harming others, returning the greeting, enjoining what is good, and forbidding what is evil. So there are rights to be fulfilled when choosing to sit on the road. By forbidding them to sit in pathways, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) wanted to save them from potential violations, such as looking at women and getting seduced by them; abusing the rights of others, which would be otherwise kept intact if one stays at home; seeing wrongdoings. In such a case, one should enjoin what is good and forbid what is evil. Failure to observe this duty will expose one to the danger of disobeying Allah. Also, one has to greet others back. Failure to do so, especially when one's response is inadequate to the amount of greetings one receives, makes one incur a sin for not fulfilling such an obligation. Anyhow, a Muslim is required neither to expose himself to temptations, nor to bind himself with something that he cannot properly fulfill.