ابن آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا گیا ہے، وہ لا محالہ اسے ملے گا؛ پس آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، کانوں کا…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8898Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 8898)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان بہر صورت زنا کرتا ہے، سوائے اس کے جسے اللہ بچائے، پھر اللہ کے نبی ﷺ نے اس کی کئی مثالیں ذکر کیں:
”فالعين زناها النظر“ یعنی جب کوئی مرد کسی عورت کو دیکھے، اگرچہ بغیر شہوت کے ہو اور وہ عورت اس کی محرمات میں سے نہ ہو، تو یہ بھی زنا کی ایک قسم ہے۔ یہ آنکھوں کا زنا ہے۔
”والأُذنان زِناهما الاستماع“ یعنی انسان کا کسی اجنبی عورت کی گفتگو سن کر اس کی آواز سے لطف اندوز ہونا۔ یہ کانوں کا زنا ہے۔
”اليد زناها البَطْش“ ہاتھ سے چھونا وغیرہ۔ یہ ہاتھ کا زنا ہے۔
”والرِجل زناها الخُطا“ یعنی انسان کا فُحش کاموں والی جگہ کی طرف جانا یا عورت کی آواز سننے جانا یا کسی عورت کو دیکھ کر اس کا پیچھا کرنا، یہ سب زنا کی قسمیں ہیں۔
”والقلب يَهْوَى ويتمنى“ یعنی دل کا عورتوں کی طرف میلان۔ یہ بھی دل کا زنا ہے۔
”والفرج يصدِّق ذلك أو يُكذِّبه“ یعنی جب انسان شرم گاہ کے ذریعے زنا کرتا ہے-اللہ کی پناہ- تو یہ ان اعضا کے زنا کی تصدیق ہے۔ اگر وہ شرم گاہ کے ذریعے زنا نہ کرے، بلکہ محفوظ رہے، تو یہ ان اعضا کی تکذیب ہے۔
یہ حدیث عورتوں سے بچے رہنے پر دلالت کرتی ہے کہ نہ ان کی آواز سنی جائے، نہ ان کی طرف دیکھا جائے، نہ چُھوا جائے، نہ ان کی طرف جانے کی کوشش کی جائے اور نہ ان کی طرف قلبی میلان کیا جائے۔ یہ سب زنا کی قسمیں ہیں -اللہ کی پناہ- اس لیے عقل مند اور پاک دامن انسان کو ان اعضا سے متعلق ایسی تمام چیزوں سے بچنا چاہیے، جو کسی بھی طرح عورتوں سے تعلق کا سبب بنتی ہیں۔
Explanation
Except for those whom Allah has protected, everyone ends up fornicating. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) mentioned examples of fornication. The eyes fornicate, i.e. when a man looks at a woman, even if not lustfully, who is not from his Mahrams, this is one kind of fornication. The ears fornicate by listening to and enjoying the voice of a woman. The hands fornicate by touching. The feet fornicate by going to a place of immorality, or following a woman that one unlawfully desires. The heart fornicates by being inclined to women. The genitals prove that when they commit real fornication. If they do not fornicate, then this will be disapproval of other organs’ fornication. From this, men should learn to be cautious not to get attached to women, listen to their voice, see them, touch them, pursue them, nor think of their seduction. These are types of fornication which every chaste and sensible man would resist.