Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim صحیح بخاری · صحیح مسلم

جو لوگ یہ تصویریں بناتے ہیں انھیں روزِ قیامت عذاب دیا جائے گا اور اُن سے کہا جائے گا کہ جو تم نے بنایا اس میں…

عن ابن عمر رضي الله عنهما : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إن الذين يَصْنَعُون هذه الصُّور يُعَذَّبُونَ يوم القيامة، يُقال لهم: أَحْيُوا ما خَلَقْتُم».
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگ یہ تصویریں بناتے ہیں انھیں روز قیامت عذاب دیا جائے گا اور اُن سے کہا جائے گا کہ جو تم نے بنایا اس میں جان ڈالو“۔
Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) said: “Verily, those who make these images will be tortured on the Day of Resurrection. It will be said to them: 'Bring to life what you have created.'"

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8947

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

جو لوگ (جاندار چیزوں کی) تصویریں بناتے ہیں چاہے وہ تراش کر بنائی گئی ہوں یا نقوش کھینچ کر یا فوٹو گراف تصویر کے ذریعہ جیسے کسی آدمی یا کسی جانور کی تصویر، اور چاہے یہ تصویریں ایسی ہوں جن کی توہین ہو رہی ہو یا توہین نہ ہو رہی ہو، اُن کو ان کے اس عمل کی وجہ سے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا کیوں کہ انھوں نے اللہ تعالی کی تخلیق کی نقالی کی کوشش کی۔
ان سے کہا جائے گا کہ: انہیں زندہ کرو۔
یعنی تم نے جسم بنایا ویسے ہی اب ان میں روح بھی پھونکو۔
"ما خَلَقْتُم": یعنی تم نے اللہ تعالی کی مخلوق کے مشابہہ جو یہ تصاویر بنائی ہیں۔ جب تم نے صورت کے لحاظ سے اللہ کی مخلوق کی مشابہت کی ہے تو اب ان میں روح بھی پھونکو۔ ایسا ان سے بطور استہزاء اور بطور ڈانٹ ڈپٹ اور توبیخ کہا جائے گا۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ابن عباس – رضی اللہ عنہما – سے مروی حدیث میں ہے کہ: جس نے دنیا میں کوئی تصویر بنائی اسے قیامت کے دن اس میں روح پھونکنے کو کہا جائے جسے وہ نہیں پھونک سکے گا۔
بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ: جس نے کوئی تصویر بنائی اسے ایسا کرنے پر اللہ عذاب دے گا یہاں تک کہ وہ اس میں روح پھونک دے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علماء کے بقول جاندار کی تصویر بنانا سختی کے ساتھ حرام ہے اور یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔کیوں کہ اس کے بارے میں احادیث میں مذکور یہ سخت وعید آئی ہے چاہے تصویر ایسی چیز میں بنی ہو جس کی توہین ہوتی ہو یا کوئی اور شے ہو۔ تصویر کا بنانا ہر حال میں حرام ہے کیوں کہ اس میں اللہ کی تخلیق کی مشابہت ہوتی ہے۔

Explanation

Those who make images in the form of sculptures, paintings, or photographs, for human beings or animals will be tortured on the Day of Resurrection for their action. This applies to the images which are treated with respect or disrespect because image-making implies emulating the creation of Allah, the Almighty.
The makers of images will be asked to create souls into the images as they created their structures, based on the fact that since they emulated Allah’s creation in form, then they should give them life. They shall be asked to do so as a sort of mocking and censuring their action.
Ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: “Anyone makes an image in this world will be ordered to breathe life into it on the Day of Resurrection, and he will not be able to breathe it.” [Al-Bukhāri and Muslim]
Another reporion reads: “Anyone makes an image, Allah will torture him until he breathes life into it.” [Al-Bukhāri]
Al-Nawawi (may Allah have mercy upon him) said: “Scholars stated that making images of animate beings is extremely prohibited and is a major sin, because it is subject to the severe threat mentioned in these Hadīths. Whether or not the images are made in a way to be treated with disrespect, image making is prohibited in all cases, because it involves imitating the creation of Allah, the Almighty.”

Topics موضوعات