صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

تمام ازواجِ مطہرات نبی کریم ﷺ کے پاس تھیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں، ان کی چال رسول اللہ ﷺ کی چال…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3139Sahih صحیح
عن عائشة رضي الله عنها قالت: كُنَّ أزواجُ النبي صلى الله عليه وسلم عنده، فأقبلت فاطمة رضي الله عنها تمشي، ما تُخْطِئُ مِشْيَتُها من مِشْيَةِ رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئًا، فلما رآها رَحَّبَ بها، وقال: «مَرْحَبًا بابنتي»، ثم أجلسها عن يمينه أو عن شماله، ثم سَارَّهَا فبكت بُكاءً شديدًا، فلما رأى جَزَعَهَا، سَارَّهَا الثانية فضحكت، فقلتُ لها: خَصَّكِ رسول الله صلى الله عليه وسلم من بين نسائه بالسِّرَارِ، ثم أنت تَبْكِينَ! فلما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم سألتها: ما قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قالت: ما كنت لأُفْشِيَ على رسول الله صلى الله عليه وسلم سِرَّهُ، فلما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم قلتُ: عَزَمْتُ عليك بما لي عليك من الحق، لما حَدَّثْتِنِي ما قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ فقالت: أما الآن فنعم، أما حين سَارَّنِي في المرة الأولى فأخبرني أن جبريل كان يُعارضه القرآن في كل سنة مرة أو مرتين، وأنه عارضه الآن مرتين، وإني لا أرى الأَجَلَ إلا قد اقترب، فاتقي الله واصبري، فإنه نِعْمَ السَّلَفُ أنا لك، فبكيت بكائي الذي رأيتِ، فلما رأى جَزَعِي سَارَّنِي الثانية، فقال: «يا فاطمة، أما تَرْضَينَ أن تكوني سيدة نساء المؤمنين، أو سيدة نساء هذه الأمة؟» فضحكتُ ضحكي الذي رأيتِ.
اُمُّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ تمام ازواجِ مطہرات نبی کریم ﷺ کے پاس تھیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں۔ ان کی چال رسول اللہ ﷺ کی چال سے بہت زیادہ مشابہ تھی۔ جب نبی کریم ﷺ نے انھیں دیکھا تو خوش آمدید کہا۔ فرمایا بیٹی! مرحبا! پھر نبی کریم ﷺ نے اپنی دائیں طرف یا بائیں طرف انھیں بٹھا لیا۔ اس کے بعد چپکے سے ان کے کان میں کچھ کہا تو فاطمہ رضی اللہ عنہا بہت زیادہ رونے لگیں۔ جب نبی کریم ﷺ نے ان کا غم دیکھا تو دوبارہ ان سے سرگوشی کی، اس پر وہ ہنسنے لگیں۔ میں نے ان سے کہا کہ کیا بات ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہم میں سے صرف آپ کو سرگوشی کی خصوصیت بخشی۔ پھر آپ رونے لگیں! جب نبی کریم ﷺ اٹھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کان میں نبی کریم ﷺ نے کیا فرمایا تھا؟، انھوں نے کہا کہ :میں نبی کریم ﷺ کے راز کو فاش نہیں کرسکتی۔ پھر جب آپ کی وفات ہو گئی تو میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ: میرا جو حق آپ پر ہے، اس کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ مجھے وہ بات بتا دیں جو رسول اللہ ﷺ نے آپ سے فرمائی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ہاں،اب بتا سکتی ہوں، جب نبی کریم ﷺ نے مجھ سے پہلی سرگوشی کی تھی تو فرمایا تھا کہ ”جبرائیل علیہ السلام ہر سال میرے ساتھ سال میں ایک یا دو مرتبہ دور کیا کرتے تھے لیکن اس سال میرے ساتھ انھوں نے دو مرتبہ دور کیا اور میرا خیال ہے کہ میری وفات کا وقت قریب آچکا ہے، لہذا تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہنا اور صبر کا دامن تھامے رہنا کیوں کہ میں تمہارے لیے ایک اچھا سَلَفْ (آگے جانے والا) ہوں“۔ اس وقت میرے رونے کی وجہ یہی تھی جسے کہ آپ نے دیکھا تھا۔ جب نبی کریم ﷺ نے میری پریشانی دیکھی تو آپ نے دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی، فرمایا: ”فاطمہ! کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جنت میں تم مومنوں کی عورتوں کی سردار ہو گی، یا (فرمایا کہ)اس امت کی عورتوں کی سردار ہو گی تو میں ہنس پڑی جسے آپ نے دیکھا“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) reported: The the Prophet's wives were with him when Fātimah (may Allah be pleased with her) came walking. Her gait was exactly similar to the gait of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him). When he saw her, he welcomed her saying: "Welcome, my daughter." He made her sit on his right side or on his left side. Then he said something secretly to her and she wept bitterly. When he found her in grief, he said to her something secretly for the second time and she laughed. I said to her: "The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) has singled you out with talking to you secretly, excluding all his wives, and you weep!" When the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) went away, I said to her: "What did the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) say to you?" Thereupon she said: "I am not going to disclose the secret of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him)." When the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) died, I said to her: "I adjure you by the right that I have upon you that you should tell me what the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said to you." She said: "Yes, now I can do that. When he talked to me secretly for the first time he informed me that Jibrīl was in the habit of reciting the Qur'an along with him once or twice every year, but this year it had been twice and so he perceived that his death was quite near, so fear Allah and be patient, and he told me that he would be an excellent predecessor for me, and so I wept as you saw me. Then when he saw me in grief, he talked to me secretly for the second time and said: 'O Fātimah, would it please you to know that you will be the head of the believing women or the head of the women of this Ummah?' So I laughed and it was that laughter which you saw.'"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3139

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اُمُّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا ذکر فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کی تمام ازواج مطہرات، آپ ﷺ کے پاس موجود تھیں دریں اثنا فاطمہ رضی اللہ عنھا، آپ ﷺ کے مرض الموت کے موقع پر آپ ﷺ کی عیادت کے لیے تشریف لائیں۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنھا ذکر کرتی ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنھا چلتی ہوئی آئیں تو ایسے معلوم ہوتا تھا کہ ان کی چال، نبی ﷺ کی چال ہے اور آپ ﷺ کی عادت تھی کہ جب کبھی آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنھا تشریف لاتیں تو آگے بڑھ کر ان کا بوسہ لیتے اور اپنی بیٹھک میں انہیں بھی بٹھالیتے، چنانچہ آپ نے ان کا پُرتپاک خیر مقدم کیا اور اپنے بازو میں بٹھالیا۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنھا اس بات کی خبر دیتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنھا کے کان میں کوئی راز کی بات کہی تو وہ شدت کے ساتھ رو پڑیں اور جب آپ نے ان کے شدید غم کو دیکھا تو دوسری مرتبہ کوئی اور راز کی بات ان کے کان میں کہی تو وہ ہنس پڑیں۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے ان سے اس خاص بات کے بارے میں دریافت کیا جو آپ ﷺ نے اپنی تمام ازواج مطہرات کو چھوڑ کر خاص فاطمہ رضی اللہ عنھا سے فرمائی تھی اور جس کی وجہ سے وہ روپڑی تھیں، تو فاطمہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے راز کو عام نہیں کرسکتی۔جب رسول اللہ ﷺ وفات پاگیے تو عائشہ رضی اللہ عنھا نے فاطمہ رضی اللہ عنھا کو قسم دے کر کہا کہ وہ انھیں وہ بات بتائیں جو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمائی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اب آپ نے مجھ سے پوچھا ہے تو میں ضرور بتاؤں گی، میرے پہلے رونے کی وجہ یہ تھی کہ جب آپ ﷺ نے مجھ سے پہلی مرتبہ راز کی بات کہی تو آپ نے مجھے یہ بتایا کہ جبریل علیہ السلام ہر سال آپ کے ساتھ ایک یا دو مرتبہ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے اور اس مرتبہ انھوں نے دو مرتبہ دور کرایا اور آپ ﷺ کا خیال تھا کہ یہ آپ کی مدت حیات کے ختم ہونے کا انتباہ ہے اور آپ نے مجھے تقوی اور صبر اختیار کرنے کی تلقین فرمائی، تقوی اور صبر کے ساتھ مجھے پہنچنے والا سلف کا شرف، پیدا ہونے والی جدائی کے غم کا متبادل ہوجائے گا، اسی وجہ سے میں روپڑی جس وقت آپ نے مجھے روتے دیکھا اور جب آپ ﷺ نے میرے شدید غم کو دیکھا تو مجھے اس بات کی بشارت سنائی کہ میں جنت میں ایمان والی عورتوں کی سردار ہو ں گی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہوں گی تو میں ہنس پڑی جو آپ نے دیکھی۔ اس حدیث میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنھا، جنتی خواتین کی سردار ہوں گی، اس کے باوجود روایات کے اختلاف سے اس مسئلہ میں کچھ اور اقوال پائے جاتے ہیں کہ آپ ﷺ نے دوسری مرتبہ ان سے کیا راز کی بات فرمائی اور جس کی بناء پر وہ ہنس پڑیں، ان میں سے چند اقوال حسبِ ذیل ہیں:
1- آپ ﷺ نے انھیں اس بات کی خبر دی کہ وہ آپ کے گھر والوں میں آپ سے سب سے پہلے ملیں گیں۔
2- آپ ﷺ نے انھیں یہ خبر دی کہ وہ جنتی عورتوں کی سردار ہوں گی اور آپ کے اہل میں سب سے پہلے آپ ﷺ سے ملنے کی بات کو پہلی (رازدارانہ) بات کے ساتھ جوڑ دیا اور یہی راجح قول ہے۔
3- آپ ﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام نے مجھے خبر دی کہ مسلمانوں کی عورتوں میں کوئی ایسی نہیں جو ذریت و نسل کے اعتبار سے تم سے زیادہ عظمت کی حامل ہو، اس لیے تمہیں ان میں سے کسی عام عورت کی طرح معمولی درجہ کا صبر رکھنے والی خاتون نہیں ہونا چاہیے۔
لیکن ان معانی میں یہ معنی بھی اہمیت کا حامل ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنھا کے علمی اشتیاق کا یہ عالم تھا کہ انھوں نے فاطمہ رضی اللہ عنھا سے انتہائی سبقت کے ساتھ نبی ﷺ اور ان کے درمیان ہوئی راز کی باتوں کے بارے میں دریافت کیا اور نبی ﷺ کی اس عظیم دختر کے جواب کو بھی ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ " میں نبی کریم ﷺ کے راز کو فاش نہیں کرسکتی"، اور یہی امر اس حدیث کا شاہد ہے اور جب نبی ﷺ کی موت سے افشائے راز کا ڈر و خوف ختم ہوگیا تو انھوں نے اس پردۂ راز کو اٹھادیا۔ اس حدیث میں آپ ﷺ نے عنقریب وقوع پذیر ہونے والے امر کی خبر دی اور وہ آپ کے فرمان کے مطابق واقع ہوئی، کیوں کہ سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنھا ہی وہ پہلی فرد رہیں جو نبی ﷺ کے گھرانے میں آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنھن سے بھی پہلے وفات پائیں۔

Explanation

‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) reported that the Prophet's wives were sitting with him when Fātimah (may Allah be pleased with her) came to visit him in his final illness. Fātimah came in walking exactly like the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). It was the Prophet's habit to stand up for his daughter, kiss her, and let her sit in his place. So he welcomed her and let her sit next to him. ‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) then mentioned that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) talked secretly to Fātimah (may Allah be pleased with her), who therefore wept heavily. When the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) saw that she was very sad, he talked once again secretly to her, so she laughed. ‘Ā’ishah asked Fātimah why she wept although she had such a privilege of being told a secret by the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) apart from his wives. Fātimah said that she would not divulge the Prophet's secret. However, when the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) died, ‘Ā’ishah adjured Fātimah to tell her what the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) had told her. Fātimah agreed to tell her this time. She said that she cried the first time because the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) told her that Jibrīl used to study the Qur'an with him once or twice every year, but that time it was twice. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) believed this was an indication that his life was coming to an end. He asked Fātimah to adhere to piety and have patience, and told her that the honor of being the Prophet's descendant would compensate the grief of separating from him by his death. So Fātimah cried and was very sad. Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) told her another secret; he assured her that she is the cream of Muslim women, so she laughed. As this Hadīth reports, Fātimah laughed because the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed her that she would be the chief of the women of Paradise. However, there are other narrations stating that in the second time he talked secretly to her, she laughed for the following reasons: 1. He told her that she would be the first of his family to die after him. 2. He told her that she would be the chief of the women of Paradise. This, along with the first, is the preponderant opinion. 3. He told her that Jibrīl told him that no Muslim woman has more excellent offspring than her, and asked her not to be the least patient. It remains that ‘Ā'ishah's keenness for knowledge pushed her to ask Fātimah what secret the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) confided to her. But the Prophet's daughter said that she would not disclose the Prophet's secret. This is the point of the Hadīth. When the restriction ended by the Prophet's death, she told her about the secret speech. Finally, this Hadīth tells something about the future, and this thing happened as described. It is agreed that Fātimah (may Allah be pleased with her) was the first of the Prophet's family to die after him, even before his wives (may Allah be pleased with them).

Topics موضوعات