نہ (ابتداءً) کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا جائز ہے۔
Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابن ماجہSunan Ibn MajahOriginal wording: اسے ابن ماجہ اور دار قطنی وغیرہ نے مسنداً روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #66531Sunan Ibn Majah (HadeethEnc 66531)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ خود اپنے نفس کو اور دوسروں کو کسی بھی طرح کا ضرر پہنچانے سے بچنا ضروری ہے۔ نہ تو خود کو اذیت دینا جائز ہے اور نہ کسی اور کو اذیت دینا جائز ہے۔ دونوں ہی باتیں ناجائز ہيں۔ کسی کے لیے بھی ضرر کے مقابلے میں ضرر پہنچانا جائز نہيں ہے۔ کیوں کہ ضرر کا ازالہ ضرر کے ذریعے قصاص کے علاوہ کہیں اور جائز نہيں ہے۔ یہ بھی اس وقت جائز ہے جب ظلم وتعدی نہ ہو۔
حدیث کے فوائد
- جتنا نقصان پہنچایا گیا ہو اس سے زیادہ بدلہ لینا جائز نہيں ہے۔
- اللہ نے اپنے بندوں کو کسی ایسے کام کا حکم نہيں دیا ہے، جو ان کے لیے نقصان دہ ہو۔
- یہ حدیث ضرر رسانی کی حرمت کے سلسلے میں ایک قاعدے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ضرر رسانی قول کے ذریعے ہو، فعل کے ذریعے ہو یا ترک کے ذریعے۔
- شریعت کا ایک قاعدہ یہ ہے کہ ضرر کو زائل کیا جائے گا۔ لہذا شریعت ضرر کو قبول نہيں کرتی، بلکہ اسے رد کرتی ہے۔
Explanation
The Prophet (ﷺ) pointed out that we should avert harm from ourselves and from others in all its kinds and manifestations. It is equally impermissible for anyone to harm himself or others. It is also not permissible to respond to harm with harm, for harm will not be removed with harm except by way of legal retribution, without transgression.