Jami' at-Tirmidhi · Sunan an-Nasa'i · Musnad Ahmad جامع ترمذی · سنن نسائی · مسند احمد

جو چيز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے۔ کیوں کہ سچائی اطمینان ہے اور جھوٹ شک و…

عَنْ أَبِي الحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رضي الله عنهما: مَا حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لاَ يَرِيبُكَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ، وَإِنَّ الكَذِبَ رِيبَةٌ».
ابو الحوراء سعدی کہتے ہیں : میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے کیا یاد کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا : میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ یاد کیا ہے : "جو چيز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے۔ کیوں کہ سچائی اطمینان ہے اور جھوٹ شک و شبہ ہے۔"
Abu al-Hawrā’ as-Sa‘di reported: I said to Al-Hasan ibn ‘Ali (may Allah be pleased with him and his father): What did you memorize from the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him)? He said: I memorized from the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him): "Leave what you doubt for what you do not doubt; indeed, truthfulness is tranquility, and lying is doubt."

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
جامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن نسائیSunan an-Nasa'iمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: رواه الترمذي والنسائي وأحمد
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4564

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسے اقوال و اعمال سے دور رہنے کا حکم دیا ہے، جن کے بارے میں یہ شک و شبہ پیدا ہو کہ ممنوع ہیں یا نہيں؟ حلال ہیں یا حرام؟ انسان کو ایسی چیزیں اپنانی چاہیے، جن کے اچھے اور حلال ہونے کا یقین ہو۔ کیوں کہ ان سے انسان کا دل مطمئن رہتا ہے۔ جب کہ شک و شبہ والی چيزیں انسان کے دل کو بے چین اور مضطرب رکھتی ہیں۔

حدیث کے فوائد

  • مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے تمام معاملات کی بنیاد یقین پر رکھے اور بصیرت وآگہی کے ساتھ دین پر عمل کرے۔
  • مشتبہ چيزوں میں پڑنے کی ممانعت۔
  • اگر آپ اطمینان اور آرام چاہتے ہیں تو مشکوک چیزوں کو ترک کر دیں اور ان سے دامن کش ہوجائیں۔
  • اللہ تعالی اپنے بندوں پر رحیم ومہربان ہے، بایں طور کہ اس نے انہیں ایسے کاموں کا حکم دیا ہے جن سے ذہن ودل کا سکون حاصل ہوتا ہے اور ایسے کاموں سے منع فرمایا ہے جن سے بے قراری اور حیرانگی پیدا ہوتی ہے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) commanded that one should leave whatever words or deeds he has doubts about, whether they are prohibited or not, unlawful or lawful, and choose instead what is not doubtful—things whose goodness and lawfulness he is certain about, as such things bring tranquility and comfort to the heart, whereas whatever is doubtful sows anxiety and confusion in the heart.

Topics موضوعات