صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ شہد اور میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے۔ آپ ﷺ عصر کی نماز سے فارغ ہو کر اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
58130Sahih صحیح
عن عائشة، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحِبُّ الحَلْواء والعسل، فكان إذا صلَّى العصر دارَ على نسائه، فَيَدْنُو منهنَّ، فدَخَل على حفصة، فَاحْتَبَسَ عندها أكثرَ ممَّا كان يحْتَبِس، فسألتُ عن ذلك، فقيل لي: أهْدَتْ لها امرأة من قومها عُكَّةً من عسل، فسَقَتْ رسول الله صلى الله عليه وسلم منه شرْبة، فقلتُ: أمَا والله لنَحْتالَنَّ له، فذكرتُ ذلك لسَوْدَة، وقلتُ: إذا دخل عليكِ، فإنه سَيَدْنُو منكِ، فقولي له: يا رسول الله، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ فإنه سيقول لك: «لا»، فقولي له: ما هذه الرِّيح؟ وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يشْتَدُّ عليه أنْ يوجد منه الريح، فإنه سيقول لك: «سَقَتْني حفصة شربة عسل»، فقولي له: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، وسأقول ذلك له، وقولِيه أنتِ يا صفية، فلما دخَل على سودة قالت: تقول سودة: والذي لا إله إلا هو لقد كدتُ أن أبادئه بالذي قلتِ لي، وإنه لعلى البابِ فرقًا منكِ، فلما دَنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قالت: يا رسول الله، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ قال: «لا»، قالت: فما هذه الريح؟ قال: «سَقَتْني حفصة شربة عسل»، قالت: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، فلما دخل عليَّ، قلتُ له: مثل ذلك، ثم دخل على صفية، فقالت بمثل ذلك، فلما دخل على حفصة، قالت: يا رسول الله، ألا أسْقِيك منه؟ قال: «لا حاجةَ لي به»، قالت: تقول سودة: سبحان الله، والله لقد حَرَمْنَاهُ، قالت: قلتُ لها: اسْكُتِي.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ:رسول اللہ ﷺ شہد اور میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے، نبی ﷺ عصر کی نماز سے فارغ ہو کر جب واپس آتے تو اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے اور اُن سے قریب بھی ہوتے تھے- ایک دن آپ ﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور معمول سے زیادہ دیر ان کے گھر ٹھہرے رہ گیے۔ (مجھے اس پر غیرت آئی) اور میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ حفصہ کو ان کی قوم کی کسی خاتون نے انہیں شہد کا ایک ڈبہ دیا ہے اور انہوں نے اسی کا شربت نبی ﷺ کے لیے پیش کیا ہے- میں نے اپنے جی میں کہا : اللہ کی قسم ! میں تو ایک حیلہ کروں گی، پھر میں نے سودہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ ﷺ تمہارے پاس آئیں گے اور جب آئیں تو کہنا کہ کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ نے مغافیر کھا رکھا ہے؟ ظاہر ہے کہ آپ ﷺ نفی میں جواب دیں گے- اس وقت کہنا کہ پھر یہ بو کیسی ہے؟ اور آپ ﷺ (مغافیر کی) بو کو ناپسند کرتے تھے۔ اس پر نبی ﷺ کہیں گے کہ حفصہ نے شہد کا شربت مجھے پلایا ہے۔ تم کہنا کہ غالباً اس شہد کی مکھی نے مغافیر کے درخت کا عرق چوسا ہو گا! میں بھی آپ ﷺ سے یہی کہوں گی اور صفیہ تم بھی یہی کہنا- عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سودہ کہتی تھیں کہ اللہ کی قسم ! نبی ﷺ جوں ہی دروازے پر آ کر کھڑے ہوئے تو تمہارے خوف سے میں نے ارادہ کیا کہ نبی ﷺ سے وہ بات کہوں جو تم نے مجھ سے کہی تھی۔چنانچہ جب نبی ﷺ سودہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں تو! انہوں نے کہا، پھر یہ بو کیسی ہے جو میں آپ کے منہ سے محسوس کرتی ہوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے۔ اس پر سودہ رضی اللہ عنہا بولیں کہ اس شہد کی مکھی نے مغافیر کے درخت کا عرق چوسا ہو گا۔ پھر جب نبی ﷺ میرے یہاں تشریف لائے تو میں نے بھی یہی بات کہی اس کے بعد جب صفیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی اسی کو دہرایا۔ اس کے بعد جب پھر نبی ﷺ حفصہ کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کیا : اے اللہ رسول! وہ شہد پھر نوش فرمائیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس پر سودہ رضی اللہ عنہا بولیں، سبحان اللہ! اللہ کی قسم ہم آپ ﷺ کو روکنے میں کامیاب ہو گئے، میں نے ان سے کہا (ابھی) چپ رہو۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) reported: The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) liked sweets and honey, and whenever he finished the ‘Asr prayer, he would visit his wives and stay closely with them, one after another. He once visited Hafsah and remained with her for longer than usual. I inquired about it, and it was said to me: ‘A woman from her tribe gifted her a leather vessel containing honey, and she gave some of it to the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) to drink.’ I said: "By Allah, we will play a trick on him." So I mentioned the story to Sawdah and said to her: "When he visits you, he will come near you, whereupon you should say to him: 'O Messenger of Allah, have you eaten Maghafīr (bad-smelling gum)?' He will say: 'No.' Then say to him: 'What about this smell then?' It was very hard on the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) that a bad smell would emit from him. He will say: 'Hafsah has given me a drink of honey.' Then say to him: 'Its bees must have sucked from ‘Urfut (a foul-smelling plant).' I too will tell him the same. And you, O Safiyyah, also say the same.’ When the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) visited Sawdah, the following happened, as related by Sawdah, who said: 'By the One other than Whom there is no god, I was about to tell him what you had told me while he was still at the door, out of fear from you.’ But when the Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) came near her, she said to him: ‘O Messenger of Allah, have you eaten Maghāfīr?’ He replied: ‘No.’ ‘I said: 'What about this smell then?' He said: 'Hafsah has given me a drink of honey.' I said: 'Its bees must have sucked ‘Urfut.'’ When he visited me, I told him the same, and when he visited Safiyyah, she too said the same. When he visited Hafsah again, she said to him: ‘O Messenger of Allah, shall I give you a drink of it (the honey)?’ He said: ‘I have no desire for it.’ Sawdah said: ‘Glory be to Allah! By Allah, we have deprived him of it.’ I said to her: ‘Keep quiet!’”
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #58130

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کھانے میں میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے اور یہ کہ آپ ﷺ شہد کو پسند کرتے تھے، جب آپ ﷺ عصر کی نماز سے واپس آتے تو اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے اور ان میں سے کسی کسی کو بوسہ دیتے اور جماع کے بغیر ان سے بغل گیر ہوتے۔ ایک مرتبہ آپ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گیے تو ان کے پاس کچھ زیادہ ہی دیر رُک گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے بارے میں آپ ﷺ سے پوچھا، معلوم ہوا کہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو کسی نے چھوٹے ڈبے میں شہد ہدیہ کیا ہے جس میں سے آپ ﷺ پیتے ہیں، تو عائشہ رضی اللہ عنہا کو غیرت آئی اور انہوں نے سودہ و صفیہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا کہ جب آپ ﷺ کسی کے پاس آئیں تو وہ آپ ﷺ سے پوچھے کہ کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ مغافیر ایک قسم کے بدبو دار گوند کو کہتے ہیں اور نبی ﷺ خوشبو کے علاوہ کسی اور چیز کے بو کو ناپسند کرتے تھے، پھر جب آپ ﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے شہد پیش کیا لیکن آپ ﷺ نے انکار کر دیا۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے دوبارہ نہ پینے کی قسم کھالی۔
روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی کس بیوی کے یہاں شہد پیا، کہا گیا ہے کہ زینب رضی اللہ عنہا کے یہاں آپ نے شہد پیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سودہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آپ نے شہد پیا، بعض علماء نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ آپ ﷺ نے زینب کے یہاں شہد پیا تھا اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حفصہ رضی اللہ عنہا مخالفت کرنے والی تھیں اور بعض لوگوں نے اسے تعددِ واقعہ پر محمول کیا ہے اس لیے کہ ایک ہی چیز کے لیے تعددِ سبب کا ہونا مانع نہیں ہے، اس طرح یہ دوسرا واقعہ ہوسکتا ہے۔

Explanation

In this Hadīth, ‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) mentioned that the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) liked all sweet foods and honey, and that when he finished the ‘Asr prayer, he would visit his wives, one after another, and approach each of them, kissing and caressing her. She goes on to relate that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) once visited Hafsah (may Allah be pleased with her) and stayed with her for longer than usual. ‘Ā’ishah asked about the reason and learned that one of Hafsah’s female relatives had given her a small vessel of honey as a gift and that she gave the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) a drink of it. ‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) felt jealous and planned, together with Sawdah and Safiyyah, that when the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) visited any of them, she would ask him whether he had eaten Maghāfīr, which is a foul-smelling gum. The noble Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) hated that any unpleasant odor should ever emit from him. So when he visited Hafsah (may Allah be pleased with her) again and she offered honey to him, he declined it. In another version: “He swore that he would never drink it again.”
Different versions of this Hadīth differ over who gave the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) the drink of honey. It has been mentioned that he had drunk it in the apartment of Zaynab or Sawdah. Some scholars deemed it more likely that Zaynab was the one who gave him the drink of honey and that Hasfah was ‘Ā’ishah’s partner in the plan. Some scholars proposed that the different versions might refer to more than one story.

Topics موضوعات