صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

”یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
66515Sahih صحیح
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُولُ: «إنَّ الحَلَالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنْ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الحَرَامِ، كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، أَلَّا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ، أَلَّا وَإِنَّ فِي الجَسَدِ مُضْغَةً إذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وَإذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ القَلْبُ».
ابو عبداللہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں، جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔ چنانچہ جو شخص شبہ والی چیزوں سے بچ گیا، اس نے اپنے دین اور آبرو کو محفوظ کرلیا، اور جو شبہ والی چیزوں میں پڑ گیا، وہ حرام میں پڑ جائےگا۔ اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی محفوظ چراہ گاہ کے اردگرد جانور چراتا ہے۔ ایسے میں اس بات کا امکان رہتا ہے کہ جانور اس چراگاہ میں سے بھی چر لے۔ سنو! ہر بادشاہ کی ایک محفوظ چراہ گاہ ہوتی ہے (جس میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی)۔ آگاہ رہو! اللہ کی چراگاہ اس کى حرام کردہ چیزیں ہیں۔ سنو! جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ جب وہ درست ہو جاتا ہے، تو سارا جسم درست رہتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے، تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ جان لو! وہ دل ہے۔“
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu ‘Abdullah an-Nu‘mān ibn Bashīr (may Allah be pleased with him) reported: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Verily, the lawful is clear, and the unlawful is clear, and between them are doubtful matters many people do not know. Whoever avoids doubtful matters clears his liability regarding his religion and his honor, and whoever falls into doubtful matters will fall into the unlawful, just like the shepherd who grazes his animals in the vicinity of a prohibited pasture and is thus likely to graze therein. Verily, every king has a protected area, and the protected area of Allah is His prohibitions. Verily, in the body, there is a piece of flesh; if it is sound, the entire body will be sound, and if it is corrupt, the entire body will be corrupt; verily, that is the heart."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #66515

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم چیزوں کے بارے میں ایک عام قاعدہ بتا رہے ہیں۔ آپ نے بتایا کہ شریعت میں چیزیں تین طرح کی ہیں۔ واضح حلال، واضح حرام اور ایسی مشتبہ چیزیں جن کا حلال یا حرام ہونا واضح نہ ہو اور جن کے شرعی حکم سے بہت سے لوگ واقف نہ ہوں۔

ایسے میں جس نے ان مشتبہ چیزوں کو چھوڑ دیا، اس کا دین حرام چیزوں میں پڑنے سے محفوظ رہے گا اور اس کی عزت وآبرو اس مشتبہ چیز میں ملوث ہونے کی وجہ سے لوگوں کی چہ می گوئیوں سے محفوظ رہے گى۔ اس کے برخلاف جس نے ان مشتبہ چیزوں سے اجتناب نہيں کیا، اس نے اپنے نفس کو یا تو حرام چیز میں پڑنے یا لوگوں کی چہ می گوئیوں کا سامنا کرنے کے لیے آگے کر دیا۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مشتبہ کاموں کا ارتکاب کرنے والوں کی حالت بیان کرنے کے لیے ایک مثال دی اور بتایا کہ ایسے شخص کی مثال اس چرواہے کے جیسی ہے جو کسی کی محفوظ چراگاہ کے آس پاس اپنا جانور چراتا ہو۔ ایسے میں اس بات کا امکان رہتا ہے کہ محفوظ چراگاہ کے آس پاس چرنے کی وجہ سے اس کا جانور چراگاہ کے اندر چرنے لگے۔ بالکل ایسے ہی جو شخص کوئی شبہ والا کام کرے گا، وہ اپنے اس کام کی وجہ سے حرام کے قریب ہو جائے گا اور اس بات کا امکان بنا رہے گا کہ وہ حرام میں پڑ جائے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے (یعنی دل)، جس کے درست ہونے سے جسم درست رہتا ہے اور جس کے بگڑنے سے جسم بگڑ جاتا ہے۔

حدیث کے فوائد

  • یہ حدیث مشتبہ چیزوں سے بچنے کے سلسلے میں ایک قاعدہ اور اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
  • ایسی مشتبہ چیزوں کو چھوڑنے کی ترغیب جن کا حکم واضح نہ ہو۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) explains a general rule in matters and that they fall under three categories in the Shariah: clearly lawful matters, clearly unlawful matters, and doubtful matters with the rulings on whether they are illegal or lawful being unclear and unknown to many people.

So, whoever abandons those suspicious matters keeps his religion safe by avoiding falling into the unlawful and keeps his honor safe from people's criticism of him for engaging in such doubtful things. Whoever does not avoid doubtful matters risks falling into the unlawful or being maligned by people. The Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) provided a parable to demonstrate the condition of a person who engages in doubtful matters, saying that he is like a shepherd who grazes his cattle close to a piece of land protected by its owner; so, his cattle are likely to pasture in this protected land, given its proximity. Likewise, he who engages in a suspicious matter draws near to the unlawful and is likely to fall into it. Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that there is a piece of flesh in the body, namely the heart, and when it is sound, the whole body is sound, and if it is corrupt, the entire body becomes corrupt.

Topics موضوعات