ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جو گفتگو کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو ہنسائے۔ اس کے لئے ہلاکت…
Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن نسائیSunan an-Nasa'iمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5519Sunan Abi Dawud & Jami' at-Tirmidhi & Sunan an-Nasa'i & Musnad Ahmad (HadeethEnc 5519)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث میں جھوٹ سے سختی سے ڈرایا گیا ہے اور اس شخص کے لئے ہلاکت کی وعید بیان کی گئی ہے جو از راہِ مزاح اور محض لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے۔ یہ بہت ہی بری بات ہے اور سختی کے ساتھ حرام ہے۔ یہ برے اخلاق میں سے ہے جس سے مومن کو اپنا دامن بچا کر رکھنا چاہیے اور اس سے دور رہنا چاہیے اور اپنی زبان کو ہر حال میں جھوٹ سے پاک رکھنا چاہیے، ماسوا ان صورتوں کے جن میں شارع کی طرف سے جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئی ہے۔
جس طرح از راہِ مذاق جھوٹ بولنا حرام ہے، اسی طرح سننے والوں کے لیے اس کا سننا بھی حرام ہے اگر انھیں اس کے جھوٹ ہونے کا علم ہوجائے، بلکہ ان پر واجب ہوجاتا ہے کہ وہ اس کا انکار کریں۔
Explanation
This Hadīth includes severe warning against lying, and a promise of destruction for the person who tells lies for the sake of joking and making people laugh. This is one of the most abominable acts, and it is strictly forbidden. It belongs to evil manners that the believer must shun and deem himself far above it. A believer should purify his tongue from lying in all situations, except in the few situations in which lying is justified in the Shariah. Just as it is prohibited to tell lies for the sake of joking, it is also prohibited to listen to such lies they are known to be as such. Rather, it is an obligation on the listeners to express their disapproval of it.