اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور اسےتمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے۔ لہٰذا تم ایک…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4810Sahih Muslim (HadeethEnc 4810)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ اس نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر لیا ہے اور اسے اپنی مخلوق کے بیچ بھی حرام قرار دیا ہے، لہذا کوئی کسی پر ظلم نہ کرے۔ سارے انسان حق کے راستے سے بھٹکے ہوئے ہيں، سوائے اس کے جسے اللہ حق کا راستہ دکھائے اور حق کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔ جو اللہ سے حق کے راستے پر چلنے کی توفیق مانگتا ہے، اسے اللہ یہ توفیق عطا کرتا ہے۔ سارے انسان اپنی تمام ضرورتوں کے لیے اللہ کے محتاج ہیں اور جو اللہ سے ضرورتیں پوری کرنے کی دعا کرتا ہے، اللہ اس کی ضرورتیں پوری کر دیتا ہے۔ سارے انسان رات دن گناہ کرتے ہيں اور اللہ ان کے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے اور بخشش مانگنے پر بخش دیتا ہے۔ انسان نہ تو اللہ کو ضرر پہنچا سکتے ہیں اور نہ اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہيں۔ اگر سارے انسان ایک متقی شخص کی طرح ہو جائیں، تو ان کے اس تقوے سے اللہ کی بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اس کے برخلاف اگر سارے انسان کسی گنہگار ترین شخص کے جیسے ہو جائیں، تو ان کے اس گناہ میں ملوث ہو جانے سے اللہ کی بادشاہت میں کوئی کمی نہيں ہوگی۔ کیوں کہ انسان کمزور اور ہر حال اور ہر زمان و مکان میں اللہ کے محتاج ہیں، جب کہ اللہ غنی اور بے نیاز ہے۔ اگر سارے انسان اور جن، پہلے اور بعد کے لوگ کسی ایک مقام پر کھڑے ہوکر اللہ سے اپنی اپنی مرادیں مانگنے لگیں اور اللہ سب کی جھولیاں بھر دے، تو اس سے اللہ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ بالکل اسی طرح، جس طرح سمندر میں ایک سوئی ڈال کر نکال لینے سے سمندر کا پانی گھٹتا نہیں ہے۔ ایسا اس لیے کہ اللہ بڑا ہی غنی ہے۔
اللہ بندوں کے اعمال کی حفاظت کرتاہے ، انھیں ان کے لئے اعمال کو شمار کرتا ہے اور قیامت کے دن انھیں ان کا پورا پورا بدلہ بھی دے گا۔ ایسے میں جو اپنے اعمال کا بدلہ اچھا پائے، وہ اللہ کا شکر ادا کرے کہ اس نے اسے نیک کام کرنے کی توفیق عطا کی اور جو اپنے اعمال کا بدلہ اس سے الگ پائے، وہ صرف اور صرف اپنے نفس کو کوسے، جو اسے برائی کا حکم دیتا تھا اور جس نے اسے ناکامی اور نامرادی سے دوچار کیا۔
حدیث کے فوائد
- یہ حدیث ان حدیثوں میں سے ایک ہے، جن کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پاک پروردگار سے روایت کیا ہے۔ اس طرح کی حدیث کو حدیث قدسی یا حدیث الہی کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد وہ حدیث ہے، جس کے لفظ اور معنی دونوں اللہ کے ہوں۔ البتہ اس کے اندر قرآن کی خصوصیات، جیسے اس کی تلاوت کا عبادت ہونا، اس کے لیے طہارت حاصل کرنا اور اس کا معجزہ ہونا وغیرہ نہیں پائی جاتیں۔
- انسان کو جو بھی علم اور رہنمائی ملتی ہے، وہ اللہ کی جانب سے ملتی ہے۔
- انسان کو جو بھلائی ملتی ہے، وہ اللہ کے فضل و کرم سے ملتی ہے اور جو برائی ملتی ہے، وہ اس کے نفس کی جانب سے ہوتی ہے۔
- جس نے اچھا کام کیا، اس نے اللہ کی توفیق سے کیا اور اس کی جزا دراصل اللہ کا فضل و کرم ہے، اس لیے ساری تعریف اللہ کے لیے ہے۔ اس کے برخلاف جس نے برا کام کیا، وہ صرف اپنے نفس کو کوسے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informs that Allah Almighty said that He made oppression forbidden for Himself and forbidden among His servants, so people should not oppress one another; that all servants are misguided away from the true path, except if guided and directed by Allah. And whoever asks Allah for guidance, He guides and directs him; that all servants stand in need of Allah in all their affairs. So, whoever asks from Allah, He fulfills his need and gives him sufficiency; that they commit sins day and night, and Allah Almighty conceals their sins and pardons them when they ask for His forgiveness; that they cannot cause any harm to Allah or bring Him any benefit; that if they were as pious as the most pious heart of any man, their piety would not add anything to Allah's dominion; and if they were as wicked as the most wicked heart of any man, their wickedness would not cause any decrease in His dominion. This is because they are helpless and in need of Allah. They need Him in all their conditions and in all times and places, whereas He is the Self-Sufficient One above any need; and that if they were to stand in one place, including all humans and jinn, the first and last one amongst them and were to ask from Allah, and He gave everyone what he asked for, this would not cause any decrease to what Allah possesses, like a needle when it is dipped into the sea; the sea does not diminish whatsoever on account of that. This is because of the perfect self-sufficiency of Allah Almighty;
and that Allah Almighty records and counts the deeds of His servants and gives them full recompense on the Day of Judgment. Whoever finds good recompense for his deeds should praise Allah for guiding him to His worship, and whoever finds different recompense for his deeds should not blame anyone but his evil-commanding self, which led him to the loss.