اللہ کے رسول ﷺ نے صدقۂ فطر مسلمان غلام اور آزاد، مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے (سب پر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4520Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4520)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے رمضان کے بعد زکاۃ الفطر واجب کی ہے، جس کی مقدار ایک صاع یعنی چار مد ہے۔ مد دراصل ایک متوسط انسان کے لپ بھر کو کہتے ہیں۔ زکاۃ الفطر ہر ایسے مسلمان پر پر واجب ہے، جس کے پاس ایک دن ایک رات کے کھانے سے زائد چیز موجود ہو۔ خواہ وہ آزاد ہو کہ غلام، مرد ہو کہ عورت اور چھوٹا ہو کہ بڑا۔ انسان زکاۃ الفطر اپنی اور اپنے زیر کفالت لوگوں کی جانب سے ادا کرے گا۔ آپ نے ساتھ میں یہ حکم دیا کہ فطرہ لوگوں کے عید کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے پہلے ادا کر دیا جائے۔
حدیث کے فوائد
- زکاۃ الفطر چھوٹے وبڑے اور آزاد و غلام ہر مسلمان کی جانب سے دینا واجب ہے۔ دینے کا کام ولی اور آقا کرے گا۔ انسان زکاۃ الفطر اپنی جانب سے، اپنے بال بچوں کی جانب سے اور ان تمام لوگوں کی جانب سے ادا کرے گا، جن کا نفقہ اس کے اوپر واجب ہے۔
- جنین کی طرف سے زکاۃ الفطر نکالنا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے۔
- اس بات کی وضاحت کہ زکاۃ الفطر میں کون سی چیز نکالی جائے۔ دراصل زکاۃ الفطر میں لوگوں کی عام خوردنی کی چيز نکالنی ہے۔
- زکاۃ الفطر عید کی نماز سے پہلے پہلے نکال دینا واجب ہے۔ افضل یہ ہے کہ عید کی صبح نکالی جائے۔ عید سے ایک دو دن پہلے نکالنا بھی جائز ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) made Zakat al-Fitr obligatory after Ramadan. Its amount is one Sā’, which is equivalent to four Mudds in weight. One Mudd: two handfuls of an average person of dates or barley due on every Muslim, free or slave, male or female, young or old. This applies to one who has enough surplus beyond his needs for the day and night, for himself and for those whom he provides for. He commanded that it be given before the people go out to the Eid prayer.