جانور کا زخمی کر دینا رائیگاں ہے، کنویں میں گر جانا رائیگاں ہے، کان میں دب جانا رائیگاں ہے اور رکاز (زمین میں…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4533Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 4533)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے منقول جانور کے فعل، یا کنویں یا کان میں اترنے کی وجہ سے پیش آنے والے تلف یا نقصان کی ضمان کا حکم بتا رہے ہیں کہ آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ جانور کے کسی عمل کی وجہ سے جو تلف یا نقصان ہو جائے اس میں کسی پر کوئی ضمان نہیں آتی۔ اسی طرح کسی کنویں کی وجہ سے تلف یا نقصان ہونے کی وجہ سے بھی کوئی ضمان نہیں آتی مثلا کوئی شخص کنویں یا کان میں اترے اور ہلاک ہو جائے (تو اس میں کسی پر کوئی ضمان نہیں آئے گی۔) کیونکہ جانور، کنویں اور کان پر ضمان نہیں ڈالی جا سکتی اور نہ ہی ان کے مالک پر ضمان ڈالی جا سکتی ہے جب تک کہ اس کی طرف سے اس میں کوئی زیادتی یا لاپرواہی نہ ہوئی ہو۔ پھر آپ ﷺ نے بیان فرمایا کہ جس شخص کو کوئی خزانہ ملے چاہے وہ کم ہو یا زیادہ اس پر واجب ہے کہ وہ اس میں سے پانچواں حصہ (بطور صدقہ) نکالے کیونکہ اسے یہ مال بغیر کسی مشقت و تکان سے حاصل ہوا ہے۔ خمس نکالنے کے بعد باقی ماندہ اس کی ملکیت ہو گا۔
Explanation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reports what the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said about the liability for damage caused by an animal or by going down a well or a mine. He clarified that the damage caused by an animal entails no compensation. The same applies to the damage caused by going down a well or a mine and dying therein. This is because the animal, well, and mine cannot be held liable for compensation, nor can their owner be held liable as long as he did not commit any transgression or negligence. Then he mentioned that whoever finds a buried treasure from pre-Islamic times, be it big or small, then he must give out one-fifth of it because he acquired it without any difficulty or burden, and he keeps the rest for himself.