صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے۔ اس لیے مجھے ڈر لگا کہ کہیں تمھارے دلوں میں بھی کوئی بری بات نہ…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
4534Sahih صحیح
عن صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ رضي الله عنها قالت: «كان النبي صلى الله عليه وسلم مُعْتَكِفًا، فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ ليلا، فَحَدَّثْتُهُ، ثمَّ قُمْتُ لِأَنْقَلِبَ، فقام معي لِيَقْلِبَنِي -وكان مسكنها في دار أُسَامَةَ بن زَيْدٍ-، فَمَرَّ رَجُلاَنِ من الأنصار، فلما رأيا رسول الله صلى الله عليه وسلم أسرعا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : على رِسْلِكُمَا، إنها صَفِيَّةَ بِنْتُ حُيَيٍّ، فقالا: سبحان الله يا رسول الله، فقال: إن الشَّيْطَانَ يَجْرِي من ابن آدم مَجْرَى الدَّمِ، وإني خَشِيتُ أن يَقْذِفَ في قُلُوبِكُمَا شرا -أو قال شيئا-».
وفي رواية: «أنها جاءَت تَزُورُهُ في اعْتِكَافِهِ في الْمَسْجِدِ، فِي العَشْرِ الأوَاخِرِ من رمضان، فتَحدَّثَتْ عنده ساعة، ثم قامت تَنقَلِبُ، فقام النبي صلى الله عليه وسلم معها يَقْلِبُهَا ، حتى إذا بَلَغَتْ باب المسجد عند باب أم سلمة...» ثم ذكره بمعناه.
صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ اعتکاف میں تھے، تو میں رات کے وقت آپ سے ملاقات کے لیے (مسجد میں) آئی۔ میں آپ ﷺ سے باتیں کرتی رہی۔ پھر جب واپس ہونے کے لیے کھڑی ہوئی، تو آپ ﷺ بھی مجھے چھوڑ کر آنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ صفیہ رضی اللہ عنہا کی رہائش اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے مکان ہی میں تھی۔ اسی وقت دو انصاری صحابہ کا وہاں سے گزر ہوا۔ جب انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، تو تیز چلنے لگے۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ذرا ٹھہرو۔ یہ صفیہ بنت حیی ہیں! ان دونوں صحابہ نے عرض کیا: سبحان اللہ، یا رسول اللہ! ( کیا ہم آپ کے بارے میں کوئی شبہ کر سکتے ہیں؟) آپ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے۔ اس لیے مجھے ڈر لگا کہ کہیں تمھارے دلوں میں بھی کوئی بری بات نہ ڈال دے۔ یا آپ ﷺ نے اس کی بجائے فرمایا کہ کوئی بات نہ ڈال دے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ وہ رمضان کے آخری عشرے میں آپ ﷺ سے ملنے کے لیے آئیں۔ کچھ دیر آپ ﷺ کے پاس بیٹھی گفتگو کرتی رہیں اور پھر واپس جانے کے لیے کھڑی ہو گئیں۔ آپ ﷺ انھیں رخصت کرنے کے لیے ان کے ساتھ ہو لیے۔ یہاں تک کہ جب وہ مسجد کے دروازے پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھرکے دروازے کے پاس پہنچ گئیں، تو... (اس کے بعد مذکورہ حدیث کا ہی مضمون ہے)
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Safiyyah bint Huyai (may Allah be pleased with her) reported: The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was once observing I‘tikāf, so I went to visit him at night. We talked for a while then I got up to leave. He got up with me to escort me - her dwelling was in the house of Usāmah ibn Zayd. Two men from the Ansār passed by. When they saw the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) they quickened their pace, so he said to them: "Slow down. This is Safiyyah bint Huyai (my wife)." They said: "Subhān Allah! O Messenger of Allah," meaning: You are far above any suspicion. He said: "The devil circulates in the son of Adam like blood. I feared lest he should cast evil thoughts in your hearts (or he said: would cast something in your hearts)."
Another narration reads: "Safiyyah came to visit him while he was observing I‘tikāf in the mosque during the last ten nights of Ramadan. So she stayed to talk to him for some time then got up to leave. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) got up to escort her until she reached the door of the mosque near Umm Salāmah's door..." Then the rest of the narration was reported with the same meaning.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4534

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف میں تشریف فرما تھے۔ آپ ﷺ کی زوجہ صفیہ رضی اللہ عنہ ایک رات آپ ﷺ سے ملاقات کے لیے آئیں۔ وہ کچھ دیر آپ ﷺ سے باتیں کرتی رہیں۔ پھر اپنے گھر واپس جانے کے لیے کھڑی ہو گئیں۔ آپ ﷺ انھیں رخصت کرنے کے لیے ان کے ساتھ ہو لیے۔ اتنے میں دو انصاری آدمیوں کا وہاں سے گزر ہوا۔ جب انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کی بیوی کو دیکھا، تو آپ ﷺ سے شرم محسوس کرتے ہوئے جلدی جلدی چلنے لگے۔ آپ ﷺ نے ان سے کہا: ”على رِسْلِكُمَا“ یعنی کچھ آہستہ چلو۔ یہ میری بیوی صفیہ ہے۔ ان دونوں نے جواب دیا کہ سبحان اللہ! کیا ذہن میں آپ کے خلاف کوئی بد گمانی آ سکتی ہے؟ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ شیطان تو بنی آدم کو گمراہ کرنے کے درپے رہتا ہے اور ان پر اسے بہت زیادہ قدرت حاصل ہے۔ وہ انسان کے خون کے ساتھ دوڑتا ہے؛ کیوں کہ وہ بہت غیر محسوس انداز میں داخل ہوتا ہے اوراس کے راستے بہت مخفی ہیں۔ نبی ﷺ کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں شیطان ان کے دل میں کوئی بات نہ ڈال دے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was observing I‘tikāf during the last ten nights of Ramadan. His wife, Safiyyah (may Allah be pleased with her) visited him one of those nights and talked to him for some time. Then she got up to go back home, so the Prophet got up with her to escort her and keep her company. Two men from the Ansār walked by, and when they saw the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) they sped up out of shyness when they saw his wife with him. So the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said to them: Slow down for this is only my wife Safiyyah. The two men said in embarrassment: Subhān Allah! Is it even conceivable that someone might have suspicions about you (i.e. suspecting that the woman with him was not his wife)? In reply, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed them that the devil is keen on luring the sons of Adam, and that he is highly capable of doing so, for he runs through their veins just like blood given the subtle ways he sneaks into their hearts and minds. Therefore, he feared that the devil might cast suspicions in their hearts.

Topics موضوعات