صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ کا بستر چمڑے کا تھا، اور اس میں کھجور کے درخت کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
65820Sahih صحیح
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَدَمٍ، وَحَشْوُهُ مِنْ لِيفٍ، وَلِمُسلمٍ: كَانَ وِسَادَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَتَّكِئُ عَلَيْهَا مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ.
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: رسول اللہ ﷺ کا بستر چمڑے کا تھا، اور اس میں کھجور کے درخت کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی، مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا وہ تکیہ جس پر آپ ﷺ ٹیک لگاتے تھے، چمڑے کا تھا جس میں کھجور کے درخت کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Ā’ishah, the Mother of the Believers (may Allah be pleased with her), reported: The bedding of the Messenger of Allah (ﷺ) was made of leather stuffed with palm fiber. In the version of Muslim: The pillow of the Messenger of Allah (ﷺ), which he reclined against, was made of leather stuffed with palm fiber.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #65820

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ کا بستر جس پر آپ آرام فرماتے تھے، دباغت دیے ہوئے چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی، اسی طرح آپ ﷺ کا تکیہ بھی تھا جس پر آپ ٹیک لگاتے تھے۔

حدیث کے فوائد

  • نبی ﷺ کے زہد اور دنیا کی لذتوں سے اعراض برتنے کا بیان، حالانکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ کو اس پر قدرت بخشی تھی کہ اگر آپ چاہتے تو اس سے لطف اندوز ہو سکتے تھے۔
  • بستر اور تکیوں کا استعمال کرنا، ان پر سونا اور ان پر ٹیک لگانا جائز ہے۔
  • مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی حالت اور طرزِ زندگی کا اپنے نبی ﷺ کی حیاتِ طیبہ سے موازنہ کرے، کیونکہ آپ ﷺ ہی اسوہ حسنہ ہیں، اور جس نے آپ ﷺ کے نقش قدم کی پیروی کی وہ ہدایت یاب ہوا اور دنیا وآخرت میں فلاح پا گیا۔
  • آخرت کی تیاری کی فکر کرنا، اور یہ کہ مومن اسی قدر دنیاوی نعمت پر اکتفا کرے جو اسے اللہ کی اطاعت میں مدد دے اور بہت زیادہ دنیا طلبی میں مشغول نہ رہے۔ اللہ نے ایک قوم کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا ہے: (زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کردیا یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے)۔ [التكاثر:1- 2]

Explanation

The Mother of the Believers, ‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her), reported that the bed on which the Messenger of Allah (ﷺ) slept was made of tanned leather and stuffed with palm fiber, and likewise, his pillow, which he leaned against, was the same.

Topics موضوعات