کیا میں تمہیں روزہ، نماز اور صدقہ سے بھی افضل چیز نہ بتاؤں؟
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-TirmidhiOriginal wording: رواه أبو داود والترمذي
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #66252Sunan Abi Dawud & Jami' at-Tirmidhi (HadeethEnc 66252)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی ﷺ نے اپنے صحابہ سے پوچھا: کیا میں تمہیں بہت زیادہ نفلی روزوں، نمازوں اور صدقات کے ثواب سے بھی افضل چیز کے بارے میں بتاؤں؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: آپس میں لڑنے والوں کے درمیان صلح کرانا، کیونکہ لڑائی جھگڑا لوگوں کے درمیان جدائی، وحشت، باہمی بغض ونفرت اور قطع تعلقی کا سبب بنتا ہے۔ درحقیقت آپسی بگاڑ سے پیدا ہونے والا بغض وہ خصلت ہے جو دین و دنیا کو اس طرح ہلاک اور جڑ سے اکھاڑ دیتی ہے جس طرح استرا بالوں کو مونڈ دیتا ہے۔
حدیث کے فوائد
- نبی ﷺ کا یہ طریقہ تعلیم کہ آپ صحابہ سے سوال کرتے اور انہیں جواب جاننے کا شوق دلاتے۔
- طیبی نے فرمایا: اس میں لوگوں کے درمیان صلح کرانے اور آپسی بگاڑ سے بچنے کی ترغیب ہے؛ کیونکہ صلح کرانا اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے اور مسلمانوں کے درمیان آپسی اتحاد کا ذریعہ ہے، اور آپسی بگاڑ دین میں ایک رخنہ ہے۔ چنانچہ جو شخص اس کی اصلاح کا بیڑا اٹھاتا ہے اور اس بگاڑ کو دور کرتا ہے، وہ اس روزہ دار اور تہجد گزار سے بھی بلند درجہ پاتا ہے جو اپنی خاص عبادت میں مشغول رہتا ہے۔
Explanation
The Prophet (ﷺ) asked his Companions: Shall I tell you of something that brings a greater reward than frequently performing voluntary fasting, prayer, and charity? They said: Yes. He said: It is reconciling between those in conflict, for disputes lead to division, estrangement, hatred, and turning away from one another. The enmity that results from discord is a trait that destroys and eradicates both religion and worldly life, just as a razor completely removes hair.